نہر اپر جہلم میں تین کم سن بچوں کو پھینکنے کا افسوسناک واقعہ، دو بچوں کی لاشیں برآمد، تیسرے کی تلاش جاری

جہلم/ میرپور: نہر اپر جہلم میں تین کم سن بچوں کو پھینکنے کا افسوسناک واقعہ، ریسکیو ٹیموں نے دو بچوں کی لاشیں تلاش کر لیں، تیسرے بچے کی تلاش جاری ہے۔

تفصیلات کے مطابق نہر اپر جہلم میں دینہ کے رہائشی تین کم سن بچوں کو مبینہ طور پر ان کے والد کی جانب سے پھینکے جانے کا انتہائی افسوسناک واقعہ پیش آیا ہے، جس میں ریسکیو ٹیموں نے دو بچیوں کی لاشیں برآمد کر لی ہیں جبکہ بچے کی تلاش جاری ہے۔

پولیس کے مطابق منگلا روڈ دینہ کی رہائشی بچوں کی والدہ عنبرین اشرف کی مدعیت میں تھانہ منگلا پولیس نے سابق شوہر اور دو نامعلوم افراد کے خلاف دفعہ 363 تعزیراتِ پاکستان کے تحت تین بچوں کے اغوا کا مقدمہ درج کیا تھا۔ ایف آئی آر کے متن کے مطابق بچوں کو مبینہ طور پر نقصان پہنچانے کی نیت سے اغوا کیا گیا۔

مدعیہ کے مطابق اس کی شادی تقریباً 9 سال قبل ہوئی تھی، تاہم شوہر کے نامناسب رویے کی وجہ سے اس نے عدالتی خلع حاصل کرلی تھی۔ ایف آئی آر کے مطابق 15 ستمبر کو منگلا روڈ پر ایک بیکری کے سامنے سے بچوں کو مبینہ طور پر اغوا کیا گیا۔

بعد ازاں پولیس کے مطابق سابق شوہر زیشان فاروق بچوں کو سیر کروانے کے بہانے لے گیا اور مبینہ طور پر انہیں کھڑی شریف کے قریب نہر اپر جہلم میں پھینک دیا۔

ریسکیو 1122 میرپور اور پاوندہ واٹر ریسکیو میرپور کی ٹیموں نے اطلاع ملتے ہی سرچ اینڈ ریسکیو آپریشن شروع کیا۔ آپریشن کے دوسرے روز 8 سالہ فجر ذیشان اور 3 سالہ نور فاطمہ کی لاشیں ریکور کرلی گئیں، جبکہ 5 سالہ عمر ذیشان کی تلاش جاری ہے۔

ریسکیو حکام کے مطابق گزشتہ شام اندھیرا ہونے کے باعث نہر میں سرچ آپریشن روک دیا گیا تھا، آج صبح دو بچوں کی لاشیں نہر سے نکال لی گئیں، تاہم ریسکیو ٹیمیں تیسرے بچے کی تلاش کے لیے مختلف مقامات پر سرچ آپریشن جاری رکھے ہوئے ہیں۔

ڈسٹرکٹ ایمرجنسی آفیسر ریسکیو 1122 میرپور سردار نجم سدوزئی کے مطابق ریسکیو ٹیمیں مسلسل سرچ اینڈ ریسکیو آپریشن میں مصروف ہیں اور تیسرے بچے کی ریکوری تک آپریشن جاری رکھا جائے گا۔

واقعے نے جہلم اور میرپور سمیت گردونواح میں شدید تشویش اور افسوس کی لہر دوڑا دی ہے۔ پولیس کی جانب سے مقدمے کی تفتیش جاری ہے، جبکہ واقعے کے تمام پہلوؤں کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔

یہ بھی پڑھنا مت بھولیں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button