تجاوزات کے خاتمے کے دعوے؛ جہلم کے گلی محلے آج بھی غیر قانونی رکاوٹوں کی زد میں، پیرا فورس کی کارکردگی پر سوالات

جہلم کے شہریوں نے پیرا فورس کی کارکردگی پر سوالات اٹھاتے ہوئے کہا ہے کہ تجاوزات کے خاتمے کے بلند و بانگ دعوؤں کے باوجود اندرونِ شہر گلیوں، محلوں، چوک چوراہوں اور دیگر علاقوں میں قائم متعدد غیر قانونی رکاوٹیں تاحال موجود ہیں، جن میں گھروں کے باہر بنائے گئے غیر قانونی ریمپ، سیڑھیاں، اسپیڈ بریکر، مویشیوں کے باڑے اور چھتوں پر بنائے گئے کبوتروں کے پنجرے شامل ہیں۔

شہریوں کے مطابق ضلع بھر کے چھوٹے بڑے دیہات، قصبات، تحصیلوں اور ضلعی ہیڈکوارٹر کے مختلف گلی محلوں، چوک چوراہوں اور سڑکوں پر گھروں کے باہر کئی کئی فٹ تک بنائے گئے ریمپ اور سیڑھیاں آج بھی قائم ہیں، جبکہ متعدد مقامات پر مویشیوں کے باڑے اور چھتوں پر موجود کبوتروں کے پنجرے بھی شہری راستوں اور گلیوں کے استعمال میں مشکلات پیدا کر رہے ہیں۔

مقامی شہریوں کا کہنا ہے کہ گلیوں اور محلوں میں قائم یہ رکاوٹیں نہ صرف عام شہریوں کے لیے آمدورفت میں مشکلات کا باعث بن رہی ہیں بلکہ رکشوں اور چھوٹی گاڑیوں کی آمدورفت بھی متاثر ہوتی ہے۔ بالخصوص کسی ہنگامی صورتحال میں مریضوں کو ہسپتال منتقل کرنے کے دوران تنگ گلیوں اور راستوں میں موجود غیر قانونی تعمیرات اور رکاوٹیں مشکلات میں مزید اضافہ کر دیتی ہیں۔

شہریوں نے موقف اختیار کیا کہ پیرا فورس کی جانب سے شہر کی بعض اہم سڑکوں، بالخصوص شاندار چوک اور سول لائن روڈ پر تجاوزات کے خلاف کارروائیاں کی گئیں، تاہم ان کے مطابق آج تک گلی محلوں میں قائم غیر قانونی ریمپ، جمپ، شیڈز یا سیڑھیوں کے خلاف مؤثر اور مستقل کارروائی دیکھنے میں نہیں آئی۔

عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ اگر تجاوزات کے خلاف کارروائی کا مقصد شہریوں کو کشادہ، محفوظ اور بلا رکاوٹ راستے فراہم کرنا ہے تو اس کا دائرہ صرف بڑی شاہراہوں یا مخصوص مقامات تک محدود نہیں ہونا چاہیے بلکہ گلی محلوں میں قائم تمام غیر قانونی رکاوٹوں کو بھی اس کارروائی کا حصہ بنایا جانا چاہیے۔

شہریوں نے متعلقہ انتظامیہ اور پیرا فورس کے ذمہ داران سے مطالبہ کیا ہے کہ اس اہم مسئلے کا فوری نوٹس لیا جائے اور ضلع بھر کی گلیوں، محلوں اور چوک چوراہوں میں قائم غیر قانونی ریمپ، سیڑھیاں، شیڈز، اسپیڈ بریکرز، مویشیوں کے باڑے اور دیگر رکاوٹوں کا جائزہ لے کر قانون و ضابطے کے مطابق کارروائی کی جائے، تاکہ عوام کے لیے راستے کشادہ اور محفوظ بنائے جا سکیں اور خصوصاً ایمرجنسی سروسز، مریضوں کی منتقلی اور عام شہریوں کو آمدورفت کے دوران درپیش مشکلات کا خاتمہ ممکن ہو۔

یہ بھی پڑھنا مت بھولیں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button