جہلم: دریائے جہلم میں نہانے پر دفعہ 144کی پابندی کے باوجود نوجوانوں کی جانب سے دریائے جہلم میں نہانے اور بھینسوں کو نہلانے سمیت تمام سرگرمیاں جاری، ایک اور نوجوان ڈوب گیا.
تفصیلات کے مطابق ڈپٹی کمشنر جہلم سیدہ رملہ علی نے دریائے جہلم میں نہانے پر سخت پابندی عائد کر رکھی ہے، دریائے جہلم میں نہانے والے نوجوانوں کاجم غفیر سہ پہر کو دریا پر اُمڈ آتا ہے۔
گزشتہ روز جہلم میں پرانے پل کے قریب دریائے جہلم میں نہاتے ہوئے سرائے عالمگیر کے رہائشی دو بھائی ڈوب گئے جن میں سے ایک کو بچا لیا گیا جبکہ شیر خان ولد حسین میر خان کی تلاش جاری ہے ،ریسکیوٹیمیں نوجوان کی تلاش میں مصروف ہیں۔
شہری تنظیموں نے ڈپٹی کمشنر سے مطالبہ کیا ہے کہ دریا میں نہانے والوں کے خلاف فوجداری مقدمات درج کئے جائے اور ایک ماہ تک جیلوں میں پابندسلاسل کیا جائے تاکہ دریا میں ڈوبنے والوں کی تعداد میں غیر معمولی کمی واقع ہو سکے۔
