سوہاوہ کے علاقہ ڈومیلی میں حکومت کے تحت آؤٹ سورس کیے گئے پرائمری سکولوں سے متعلق اساتذہ نے نجی انتظامیہ کے بعض فیصلوں پر شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے محکمہ تعلیم اور متعلقہ حکام سے فوری مداخلت کا مطالبہ کیا ہے۔
متاثرہ اساتذہ کے مطابق انہیں ایک مبینہ ہدایت دی گئی ہے کہ وہ یا تو اپنی تنخواہوں میں 40 فیصد "رضاکارانہ” کٹوتی قبول کریں یا پھر عملے میں ممکنہ کمی (چھانٹی) کے لیے تیار رہیں۔ اساتذہ کا کہنا ہے کہ وہ پہلے ہی انتہائی کم تنخواہوں پر خدمات انجام دے رہے ہیں، جبکہ تنخواہوں کی ادائیگی بھی اکثر مقررہ وقت کے بجائے تاخیر کا شکار رہتی ہے۔ ان کے بقول اس نئی شرط سے ان کے معاشی مسائل میں مزید اضافہ ہوگا۔
اساتذہ نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ آؤٹ سورسنگ کے وقت سکولوں میں سیکیورٹی گارڈز تعینات کرنے کا وعدہ کیا گیا تھا، تاہم اب تک متعدد سکولوں میں سیکیورٹی گارڈز تعینات نہیں کیے گئے، جس کے باعث طلبہ اور تدریسی عملے کی سیکیورٹی کے حوالے سے خدشات پائے جاتے ہیں۔
متاثرہ فریق نے مزید موقف اختیار کیا کہ بعض گرلز سکولوں میں مرد افسران کی جانب سے کیے جانے والے معائنوں پر بھی اساتذہ اور بعض والدین نے تشویش کا اظہار کیا ہے اور متعلقہ حکام سے انسپکشن کے طریقہ کار کو ضابطہ کار کے مطابق بنانے کا مطالبہ کیا ہے۔
اساتذہ اور بعض عوامی حلقوں نے محکمہ تعلیم، ضلعی انتظامیہ اور دیگر متعلقہ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ آؤٹ سورس سکولوں کی انتظامیہ کے خلاف سامنے آنے والی شکایات کا غیرجانبدارانہ جائزہ لیا جائے، تنخواہوں کی بروقت ادائیگی کو یقینی بنایا جائے، سیکیورٹی کے وعدوں پر عملدرآمد کرایا جائے اور انسپکشن کے نظام کو مقررہ قواعد و ضوابط کے مطابق بنایا جائے۔
