جہلم میں علاج کے نام پر ایک نوجوان کی مبینہ موت نے کئی سنگین سوالات کھڑے کر دیے

15 اگست کو ایک نوجوان امتیاز احمد اپنڈکس کے درد کی شکایت لے کر جادہ میں واقع احمد لیب پہنچتا ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ آپریشن 60 ہزار روپے میں طے ہوتا ہے، مریض کے لواحقین کی جانب سے 15 ہزار روپے ایڈوانس ادا کیے جاتے ہیں اور نوجوان کو جہلم میڈیکوز کے آپریشن تھیٹر منتقل کر دیا جاتا ہے۔

یہاں سے وہ سوال شروع ہوتے ہیں جن کے جواب آج تک درکار ہیں۔ مبینہ طور پر آپریشن تھیٹر میں بے ہوشی والے ڈاکٹر عثمان موجود ہوتے ہیں۔ نوجوان کو ایسا انجکشن لگایا جاتا ہے جس کے چند ہی منٹ بعد اس کی حالت بگڑ جاتی ہے اور بالآخر اس کی موت واقع ہو جاتی ہے۔

ایک صحت مند نوجوان، جو سندھ سے روزگار کی تلاش میں جہلم آیا تھا، علاج کے لیے اسپتال پہنچا تھا۔۔۔ موت کا پروانہ لے کر نہیں۔

سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ آخر ایسا کیا ہوا کہ ایک معمولی سمجھے جانے والے اپنڈکس کے آپریشن سے پہلے ہی نوجوان زندگی کی بازی ہار گیا؟ اور اگر موت کسی طبی پیچیدگی کے باعث ہوئی تو اس کی مکمل اور شفاف وضاحت کہاں ہے؟

مبینہ طور پر نوجوان کی موت کے بعد اسپتال انتظامیہ میں کھلبلی مچ گئی۔ پھر ڈاکٹر عامر منہاس، جو احمد لیب کے سربراہ بتائے جاتے ہیں، کو بلایا گیا۔ الزام ہے کہ معاملہ مزید آگے بڑھنے سے روکنے کے لیے 60 ہزار روپے میں ایمبولینس کا انتظام کیا گیا اور میت سندھ روانہ کر دی گئی۔

یہاں ایک اور انتہائی اہم سوال جنم لیتا ہے:

کیا کسی مریض کی اچانک موت کے بعد قانونی تقاضے پورے کیے گئے؟ کیا پوسٹ مارٹم ہوا؟ کیا موت کی اصل وجہ معلوم کرنے کے لیے فرانزک یا میڈیکل بورڈ سے رجوع کیا گیا؟ کیا اہلِ خانہ کو مکمل حقائق بتائے گئے؟

یا پھر۔۔۔ میت کو سندھ روانہ کر کے فائل بھی بند، سوال بھی بند اور کہانی بھی بند؟

سب سے تشویشناک پہلو یہ ہے کہ اگر کسی طبی ادارے میں ایک مریض آپریشن کے دوران جان کی بازی ہارتا ہے تو یہ محض ایک "واقعہ” نہیں ہوتا۔ یہ ایک انسانی جان کا معاملہ ہوتا ہے، جس کی ذمہ داری کا تعین ہونا چاہیے۔

غریب مزدور سندھ سے جہلم روزی کمانے آیا تھا۔ وہ اسپتال گیا تو اسے یقین تھا کہ ڈاکٹر اسے صحت دیں گے۔ اگر مبینہ طور پر علاج کے دوران کوئی سنگین غفلت ہوئی ہے تو پھر اس نوجوان کے خون کا حساب کون دے گا؟

45 ہزار روپے، 15 ہزار روپے ایڈوانس اور ایک نوجوان کی لاش۔۔۔ یہ محض اعداد نہیں، بلکہ ایسے سوالات ہیں جن کے جواب ریاستی اداروں کو تلاش کرنے چاہئیں۔

محکمۂ صحت، ضلعی انتظامیہ اور متعلقہ تفتیشی اداروں کو چاہیے کہ معاملے کی غیر جانب دارانہ، شفاف اور مکمل تحقیقات کریں۔ آپریشن تھیٹر میں موجود عملہ، استعمال ہونے والی ادویات اور انجکشن، مریض کا ریکارڈ، آپریشن سے متعلق دستاویزات، موت کا سرٹیفکیٹ اور میت کی منتقلی سمیت تمام پہلوؤں کی جانچ ہونی چاہیے۔

کیونکہ اگر کسی غریب مزدور کی موت واقعی طبی غفلت یا غلط دوا/انجکشن کے باعث ہوئی ہے تو اسے صرف ایمبولینس کا کرایہ ادا کرکے سندھ بھیج دینا انصاف نہیں اور اگر الزام غلط ہے تو پھر تحقیقات ہی وہ راستہ ہیں جو حقیقت کو سامنے لا سکتی ہیں۔

ایک انسان مر چکا ہے۔۔۔ اب کم از کم سچ کو مرنے نہ دیا جائے۔

 

 

 

 

 

 

(ادارے کا لکھاری کی رائے اور نیچے دیے گئے کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔)

Exit mobile version