کھیوڑہ چوآسیدنشاہ سڑک پہلی ہی بارش میں تباہ، ناقص میٹریل کا انکشاف، شہری سراپا احتجاج

پنڈدادنخان: چیک اینڈ بیلنس کے مؤثر نظام کی عدم موجودگی نے کھیوڑہ چوآسیدنشاہ کی حالیہ تعمیر شدہ سڑک کا بھانڈا پھوڑ دیا۔ مون سون کی پہلی ہی بارش نے سڑک کی ناقص تعمیر کا پول کھول دیا، جس سے سڑک کئی مقامات پر اکھڑ گئی اور ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو گئی۔

یہی وہ اہم پہاڑی سڑک ہے جس کی تعمیر کے لیے ایک ماہ تک ٹریفک بند رکھی گئی تھی، شہریوں کو متبادل راستوں پر شدید مشکلات کا سامنا رہا، اور تعمیر کے دوران عام لوگوں کا داخلہ بھی بند رکھا گیا۔ تاہم اب یہ سڑک ناقص میٹریل کے باعث چند ہی دنوں میں اپنی حالت کھو بیٹھی ہے، جس سے نہ صرف حکومتی فنڈز کا ضیاع ہوا بلکہ ٹھیکیدار کی کارکردگی پر بھی سنگین سوالات اٹھ گئے ہیں۔

ذرائع کے مطابق کھیوڑہ شہر میں زیرِ تعمیر دیگر سڑکوں میں بھی ناقص مٹیریل استعمال کیا جا رہا ہے۔ متعدد مقامات پر سریے کا جال یا تو موجود ہی نہیں یا انتہائی ناقص معیار کا ہے۔ ریلوے پھاٹک کے قریب چونگی کے سامنے بغیر پرانی سڑک کو اکھاڑے نئی تہہ ڈال دی گئی ہے، جس سے سڑک کی بنیاد کمزور رہ گئی ہے۔ ڈرلنگ نہ ہونے کی وجہ سے سڑک کی پائیداری بھی مشکوک ہو چکی ہے۔

ادھر پرانا بازار کھیوڑہ میں برساتی نالوں کو بند کر دیا گیا ہے، جس سے بارش کے دوران پانی گھروں اور دکانوں میں داخل ہو رہا ہے۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ کنکریٹ میں مناسب جال نہ ہونے کے باعث سڑکیں چند دنوں میں ہی خراب ہو جائیں گی۔

عوامی و سماجی حلقوں نے وزیر اعلیٰ پنجاب، محکمہ ہائی وے اور ضلعی انتظامیہ سے پرزور مطالبہ کیا ہے کہ زیر تعمیر سڑکوں کا فوری طور پر معائنہ کیا جائے، ناقص تعمیرات پر تحقیقات کر کے ذمہ داران کے خلاف سخت محکمانہ کارروائی عمل میں لائی جائے تاکہ سرکاری وسائل کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے اور عوام کو معیاری انفراسٹرکچر فراہم کیا جا سکے۔

Exit mobile version