گورنمنٹ گرلز ہائیر سیکنڈری سکول ڈومیلی میں شہد کی مکھیوں کا حملہ، متعدد طلباء و طالبات اور اساتذہ زخمی

سوہاوہ: گورنمنٹ گرلز ہائیر سیکنڈری سکول ڈومیلی میں شہد کی مکھیوں کے حملے میں متعدد طلباء و طالبات اور اساتذہ زخمی ہو گئے۔
تفصیلات کے مطابق جہلم کی تحصیل سوہاوہ کے علاقے ڈومیلی میں گورنمنٹ گرلز ہائیر سیکنڈری سکول میں شہد کی مکھیوں کے حملے کے باعث متعدد طلباء و طالبات اور اساتذہ زخمی ہو گئے، جبکہ سکول میں خوف و ہراس پھیل گیا۔ مکھیوں کے اچانک حملے کے باعث اساتذہ اور طلباء و طالبات نے اپنی جان بچانے کے لیے سکول کے کمروں میں پناہ لے لی اور محصور ہو کر رہ گئیں۔
اطلاعات کے مطابق سکول کی دیوار کے ساتھ موجود درخت پر شہد کی مکھیوں کے چھتے لگے ہوئے تھے، جہاں سے مکھیوں نے اچانک حملہ کر دیا۔ حملے کے نتیجے میں درجنوں طلباء و طالبات کے زخمی ہونے کی اطلاعات موصول ہوئیں۔ مقامی تاجروں نے سکول میں شور شرابے اور ہنگامی صورتِ حال کو دیکھتے ہوئے ریسکیو حکام کو اطلاع دی، جس پر امدادی ٹیمیں موقع پر پہنچ گئیں۔
ریسکیو ذرائع کے مطابق مکھیوں کے حملے میں زخمی ہونے والے طلباء و طالبات کو ابتدائی طبی امداد فراہم کی گئی۔ ریسکیو حکام کا کہنا ہے کہ تقریباً 15 طالبعلموں کو ہسپتال منتقل کیا گیا، جن میں سے دو سے چار طلباء و طالبات کو نسبتاً زیادہ طبی امداد کی ضرورت پیش آئی جبکہ دیگر طالبعلوں کو معمولی نوعیت کی طبی امداد خصوصاً انجکشن لگوانے کے لیے ہسپتال منتقل کیا گیا۔
دوسری جانب شہد کی مکھیوں کے چھتوں کو سکول کے قریب سے ہٹانے کے لیے ریسکیو آپریشن بھی جاری رہا تاکہ مزید طلباء و طالبات، اساتذہ اور شہریوں کو ممکنہ نقصان سے بچایا جا سکے۔
والدین اور مقامی شہریوں کے مطابق سکول کے قریب شہد کی مکھیوں کے چھتوں کی موجودگی کی نشاندہی متعدد بار کی گئی تھی، تاہم ان کے بقول چھتوں کو ہٹانے کے لیے بروقت اقدامات نہیں کیے گئے۔ والدین نے الزام عائد کیا کہ سکول کی پرنسپل نے اس معاملے پر مناسب توجہ نہیں دی، جس کے باعث یہ افسوس ناک صورتِ حال پیدا ہوئی۔
واقعے کے بعد والدین اور شہریوں نے متعلقہ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ واقعے کی مکمل تحقیقات کی جائیں، ذمہ داری کا تعین کیا جائے اور تعلیمی اداروں میں طلباء و طالبات کی حفاظت کو یقینی بنانے کے لیے فوری اور مؤثر اقدامات کیے جائیں تاکہ مستقبل میں ایسے واقعات سے بچا جا سکے۔



