کندوال میں سیل شدہ میڈیکل کمپلیکس دوبارہ کھولنے کی کوشش ناکام، محکمہ صحت کا ایکشن، میڈیکل کمپلیکس دوبارہ سیل

پنڈدادنخان: ڈپٹی ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر پنڈدادنخان ڈاکٹر انجم قدیر نے عطائیت کے خلاف کارروائیاں مزید سخت کرتے ہوئے کندوال میں پہلے سے سیل کیے گئے کندوال میڈیکل کمپلیکس کو غیر قانونی طور پر دوبارہ کھولنے کی اطلاع پر فوری کارروائی کی۔

ڈاکٹر انجم قدیر نے ہیلتھ ٹیم کے ہمراہ موقع پر پہنچ کر معائنہ کیا، جہاں سیل شدہ میڈیکل کمپلیکس کو غیر قانونی طور پر دوبارہ کھولا گیا تھا۔ کارروائی کے دوران مذکورہ میڈیکل کمپلیکس کو دوبارہ سربمہر (سیل) کر دیا گیا، جبکہ مزید قانونی کارروائی کے لیے کیس پنجاب ہیلتھ کیئر کمیشن لاہور کو بھجوا دیا گیا۔

اس موقع پر ڈپٹی ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر نے عوام اور طبی شعبے سے وابستہ افراد کے لیے اہم ہدایات جاری کرتے ہوئے کہا کہ پنجاب ہیلتھ کیئر کمیشن کے قوانین کے تحت عطائیت کے خلاف سخت قانونی کارروائیاں جاری ہیں اور کسی بھی غیر قانونی طبی سرگرمی کو ہرگز برداشت نہیں کیا جائے گا۔

انہوں نے واضح کیا کہ جن کلینکس، میڈیکل اسٹورز، لیبارٹریز یا دیگر طبی مراکز کو قانونی خلاف ورزی پر سربمہر کیا جا چکا ہے، انہیں صرف پنجاب ہیلتھ کیئر کمیشن کے مقررہ قانونی طریقہ کار کے مطابق ہی دوبارہ کھولا جا سکتا ہے۔ کمیشن کی اجازت کے بغیر کسی بھی سیل شدہ طبی مرکز کو ڈی سیل کرنا یا دوبارہ فعال کرنا قانوناً جرم ہے۔

ڈاکٹر انجم قدیر نے خبردار کیا کہ اگر کوئی شخص سیل شدہ کلینک یا طبی مرکز کا تالا توڑ کر دوبارہ غیر قانونی پریکٹس کرتا پایا گیا تو اس کے خلاف پنجاب ہیلتھ کیئر کمیشن ایکٹ کی دفعہ 28-A سمیت تعزیراتِ پاکستان کی دفعات 419، 420 اور 186 کے تحت مقدمات درج کیے جائیں گے۔

انہوں نے مزید کہا کہ اگر کسی نے محکمہ صحت یا ہیلتھ کیئر کمیشن کی ٹیموں کی کارروائی میں مزاحمت کی یا عدم تعاون کا مظاہرہ کیا تو اس کے خلاف فوری طور پر ایف آئی آر درج کروا کر قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔

ڈپٹی ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر نے کہا کہ پنجاب ہیلتھ کیئر کمیشن کے قوانین کے مطابق صرف وہی افراد علاج معالجہ کرنے کے مجاز ہیں جو پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل (PMDC)، پاکستان نرسنگ کونسل (PNC)، نیشنل کونسل فار طب یا نیشنل کونسل فار ہومیوپیتھی سے باقاعدہ رجسٹرڈ ہوں۔

انہوں نے کہا کہ عطائیت ایک سنگین جرم ہے جو انسانی جانوں کو خطرے میں ڈال سکتا ہے، لہٰذا عوام کی صحت اور جان کے تحفظ کے لیے عطائیوں اور غیر قانونی طبی مراکز کے خلاف بلاامتیاز کارروائیاں آئندہ بھی جاری رہیں گی اور قانون کی خلاف ورزی کرنے والوں کے ساتھ کسی قسم کی رعایت نہیں برتی جائے گی۔

یہ بھی پڑھنا مت بھولیں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button