غزوہ احد اطاعت رسول ﷺ، حق پر استقامت اور رضائے الٰہی کا عظیم درس ہے، امیر عبدالقدیر اعوان

سربراہ تنظیم الاخوان پاکستان و شیخ سلسلہ نقشبندیہ اویسیہ امیر عبدالقدیر اعوان نے کہا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے انصارِ مدینہؓ نے ایسی بے مثال مہمان نوازی اور ایثار کا مظاہرہ کیا کہ بعد ازاں غزوہ اُحد میں اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کر کے تاریخ میں ہمیشہ کے لیے امر ہو گئے۔

وہ جمعۃ المبارک کے موقع پر خطاب کر رہے تھے۔ انہوں نے کہا کہ غزوہ اُحد میں رسول اکرم ﷺ کے حکم کو سمجھنے میں ہونے والی غلطی ایک آزمائش کا سبب بنی، تاہم عین میدانِ کارزار میں اللہ تعالیٰ نے اہلِ ایمان پر اپنی رضا اور معافی کا اعلان فرما کر انہیں سکون و اطمینان عطا کیا اور منافقین کو بھی نمایاں کر دیا۔

امیر عبدالقدیر اعوان نے کہا کہ موت ایک اٹل حقیقت ہے جس سے ہر انسان، خواہ صاحبِ ایمان ہو یا بے ایمان، کو گزرنا ہے، تاہم دونوں کے انجام میں واضح فرق ہے۔ انہوں نے کہا کہ اہلِ ایمان کو ہمیشہ حق کا ساتھ دینا چاہیے کیونکہ حق سے گریز کرنے سے نہ زندگی طویل ہوتی ہے اور نہ ہی انسان موت سے بچ سکتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ شہادت اللہ تعالیٰ کی رضا، دین کی سربلندی اور حق و صداقت کی خاطر جان قربان کرنے کا نام ہے۔ قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ نے اپنی راہ میں جان دینے والوں کو مردہ کہنے سے منع فرمایا ہے بلکہ انہیں زندہ قرار دیا ہے۔

امیر عبدالقدیر اعوان نے کہا کہ اسلامی تاریخ میں متعدد ایسے واقعات ملتے ہیں جن میں شہداء کی قبریں کھولنے پر ان کے اجسام اور لباس محفوظ پائے گئے۔ ان کے مطابق شہید کو موت کے وقت معمولی تکلیف کا احساس ہوتا ہے، جبکہ عام انسان کے لیے موت کا مرحلہ نہایت سخت ہے، لہٰذا ہر شخص کو اپنی آخرت کی تیاری کرنی چاہیے۔

انہوں نے مزید کہا کہ جن لوگوں نے ایمان، اخلاص اور اطاعتِ الٰہی پر ثابت قدم رہتے ہوئے اپنی زندگی گزاری، اللہ تعالیٰ نے ان کے اجسام کو بھی قبروں میں محفوظ رکھا۔ انہوں نے کہا کہ بزرگانِ دین اور علماء کرام کے حوالے سے بھی اس نوعیت کے متعدد واقعات تاریخ میں موجود ہیں۔

امیر عبدالقدیر اعوان نے کہا کہ دین کی تبلیغ، وعظ، درس و تدریس اور تفاسیر بیان کرنے کا اصل مقصد صرف معلومات فراہم کرنا نہیں بلکہ لوگوں کی عملی اصلاح اور انہیں اللہ تعالیٰ کے احکامات پر عمل کی ترغیب دینا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر کوئی شہادت کا جذبہ رکھتا ہے تو اسے سب سے پہلے اپنی فرض نمازوں، معاملات، دیانت داری اور سچائی کا جائزہ لینا چاہیے، کیونکہ یہی وہ بنیادی امور ہیں جن پر عمل انسان کو اللہ تعالیٰ کے قریب کرتا ہے۔

خطاب کے اختتام پر امیر عبدالقدیر اعوان نے پاکستان کی سلامتی، استحکام، بقا اور امتِ مسلمہ کی فلاح کے لیے خصوصی اجتماعی دعا بھی کرائی۔

Exit mobile version