سوشل میڈیا اور جعلی کالز کے ذریعے شہریوں کو لوٹنے والے نوسرباز سرگرم، آئیسکو صارف ہزاروں روپے سے محروم

جہلم: سوشل میڈیا اور موبائل نیٹ ورکس کے ذریعے شہریوں کو جھانسہ دے کر رقم ہتھیانے والے جعلساز گروہ ایک بار پھر متحرک ہو گئے ہیں۔
ان نوسربازوں نے جہلم سمیت ملک کے مختلف حصوں میں سادہ لوح شہریوں کو اپنا شکار بنانا شروع کر رکھا ہے۔ روزانہ لاکھوں روپے ان گروہوں کی جیبوں میں جا رہے ہیں جبکہ متعلقہ ادارے ان کے خلاف کسی مؤثر کارروائی سے گریزاں دکھائی دے رہے ہیں۔
جہلم سے تعلق رکھنے والے ایک واپڈا صارف نے اپنی روداد بیان کرتے ہوئے بتایا کہ اُس نے بجلی کا بل زیادہ موصول ہونے کی شکایت چیف آئیسکو اسلام آباد کی کھلی کچہری میں بذریعہ ٹیلی فون درج کروائی۔ اس شکایت کے چند گھنٹوں بعد ہی اُسے ایک کال موصول ہوئی جس میں کال کرنے والے نے خود کو چیف انجینئر آئیسکو اسلام آباد کے دفتر سے انکوائری آفیسر ظاہر کیا۔ اُس شخص نے اعتماد کے ساتھ کہا کہ وہ اس شکایت پر انکوائری کر رہا ہے اور صارف کو کہا گیا کہ وہ اپنے سابقہ بجلی کے بلز اور موجودہ بل کی قسط کے ساتھ اگلے روز آئیسکو سرکل دفتر جہلم پہنچے تاکہ انکوائری مکمل کی جا سکے۔
متاثرہ صارف نے بتایا کہ جب وہ اگلے روز دفتر پہنچا اور اسی نمبر پر دوبارہ کال کی، تو وہی شخص دفتر کی سیڑھیوں سے نیچے صحن میں آ گیا اور براہ راست کچھ رقم نقد میں وصول کی۔ مزید رقم اس نے ایزی پیسہ کے ذریعے منگوائی۔ اس دوران اس جعلساز نے نہایت اعتماد کے ساتھ دفتر میں موجود ملازمین سے فون پر گفتگو کی اور ان سے ایسے بات کی جیسے وہ دفتر کا ہی کوئی سینئر افسر ہو۔ ملازمین کی جانب سے مسلسل "جی سر، جی سر” کہہ کر جواب دینا متاثرہ شخص کے اعتماد کو مزید پختہ کرتا رہا۔
تاہم کچھ ہی دن بعد جب متاثرہ صارف نے استفسار کیا کہ اس کی رقم کا کیا بنا تو دفتر کے عملے نے صاف انکار کرتے ہوئے کہا کہ ان کے اکاؤنٹ میں کوئی رقم نہیں پہنچی۔ اس پر متاثرہ شخص کو یقین ہو گیا کہ وہ ایک بڑے دھوکے کا شکار ہو چکا ہے۔
متاثرہ شخص کا کہنا ہے کہ نوسرباز نہ صرف واپڈا کے نظام اور طریقہ کار سے مکمل طور پر واقف تھا بلکہ وہ ادارے کے ملازمین کے ناموں اور اندرونی معاملات سے بھی اچھی طرح آگاہ تھا، جس سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ یہ جعلساز کسی منظم گروہ سے تعلق رکھتا ہے۔
شہری نے اپنی شکایت میں کہا کہ اگر یہ سلسلہ نہ رُکا تو مزید درجنوں نہیں بلکہ سینکڑوں افراد اس فراڈ کا شکار ہو سکتے ہیں۔ اس نے وزیراعظم پاکستان، وفاقی وزیر داخلہ، ڈی جی ایف آئی اے اور دیگر اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ اس نوعیت کی جعلسازی میں ملوث افراد کے خلاف فوری اور مؤثر کارروائی عمل میں لائی جائے تاکہ سادہ لوح شہریوں کو لوٹنے والے ان عناصر کو قانون کے شکنجے میں لایا جا سکے۔
مزید برآں اس نے حکومت سے اپیل کی ہے کہ واپڈا اور دیگر سرکاری محکموں کے نام پر کی جانے والی فراڈ کالز اور دھوکہ دہی کے سدباب کے لیے مؤثر سائبر سیکیورٹی اقدامات کیے جائیں جبکہ عوام کو اس حوالے سے آگاہی دینے کے لیے باقاعدہ مہم شروع کی جائے تاکہ کوئی اور شہری اس طرح کے فراڈ کا شکار نہ ہو۔



