جہلم سمیت پنجاب میں نان کمیونیک ایبل امراض کا پروگرام بند، لاکھوں شہری قبل از وقت تشخیص سے محروم

جہلم سمیت پنجاب کے 36 اضلاع میں نان کمیونیک ایبل امراض (NCD) کے پروگرام کے بند ہونے سے لاکھوں شہری قبل از وقت تشخیصی سہولیات سے محروم ہو گئے ہیں۔

اس پروگرام کے تحت 2016 سے 130 این سی ڈی کلینکس میں ذیابیطس، کینسر، دمہ، دل کے امراض، ذہنی امراض اور انسداد تمباکو نوشی کی ابتدائی تشخیص اور علاج کی سہولت فراہم کی جاتی تھی۔ علاوہ ازیں ویل اینڈ وومن کلینکس میں خواتین کے لیے بریسٹ کینسر، سروائیکل کینسر اور حمل کے دوران ذیابیطس کی اسکریننگ کی جاتی تھی۔

ذرائع کے مطابق یہ نظام بڑے ہسپتالوں پر بوجھ کم کرنے میں اہم کردار ادا کرتا تھا اور ہر دو سال بعد ہونے والی ہیلتھ ویک کے دوران 10 لاکھ سے زائد افراد کی اسکریننگ کی جاتی تھی۔ تاہم پروگرام کے بند ہونے سے شہریوں کو ابتدائی تشخیص کی سہولت میسر نہیں، جس کے باعث بیماریوں کے مہلک مراحل میں داخل ہونے اور علاج کے اخراجات بڑھنے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔

ہیلتھ اینڈ پاپولیشن ڈیپارٹمنٹ کے اعداد و شمار کے مطابق پنجاب میں بالغ آبادی میں ذیابیطس کی شرح 16 فیصد تک پہنچ چکی ہے، جبکہ خواتین میں بریسٹ کینسر کے کیسز 50 فیصد اور سروائیکل کینسر 5 فیصد ریکارڈ کیے جا رہے ہیں۔ ماہرین صحت کا کہنا ہے کہ دیہی علاقوں میں تشخیص میں تاخیر کے باعث کینسر مہلک مراحل میں داخل ہو جاتا ہے، جس سے اموات میں اضافہ اور علاج کے اخراجات بڑھ جاتے ہیں۔

ماہرین نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ نان کمیونیک ایبل امراض کے پروگرام کو مکمل طور پر ختم کرنے کے بجائے اسے مزید مؤثر بنایا جائے، تاکہ مستقبل میں شہری صحت اور صحت کے نظام پر بوجھ نہ پڑے۔

یہ بھی پڑھنا مت بھولیں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button