فلسطینیوں کی نسل کشی پر عالمی عدالت میں اسرائیل کیخلاف سماعت

دی ہیگ: اقوام متحدہ کی بین الاقوامی عدالت برائے انصاف میں اسرائیل کے خلاف فلسطینیوں کی نسل کشی پر جنوبی افریقا کی مقدمے کی پہلی سماعت کا آغاز ہوگیا۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق عالمی عدالت انصاف میں جنوبی افریقا نے 84 صفحات پر مشتمل پٹیشن دائر کی تھی جس میں اسرائیل کو غزہ میں فلسطینیوں کی نسل کشی کا ذمہ دار ٹھہرایا گیا تھا۔
جس پر آج پہلی سماعت کا آغاز ہوگیا جس کی سنوائی 15 ججز کا پینل کر رہا ہے جب کہ درخواست گزار جنوبی افریقا اور دفاع کرنے والے اسرائیل کے نمائندے بھی بطور جج حصہ بنیں گے۔
اس وقت عالمی عدالت انصاف میں 15 ججز جن ممالک سے ہیں ان میں امریکا، روس، چین، فرانس اور بھارت بھی شامل ہیں۔ امریکا اور روس بالترتیب عدالت کے صدر اور نائب صدر ہیں۔
South Africa filed a lawsuit against the State of Israel, accusing it of carrying out genocide in Palestine’s Gaza since October 7.
The 84-page filing covers a range of acts Israel has committed, from mass killing and destruction to cutting off Gaza’s entire population from… pic.twitter.com/Sc1DRTiDcb
— TRT World (@trtworld) January 11, 2024
جنوبی افریقا کی اس درخواست کی پاکستان سمیت 13 ممالک نے حمایت کی تھی جب کہ اسے او آئی سی اور انٹرنیشنل جیوش اینٹی زوئینسٹ نیٹ ورک سمیت 5 عالمی ادارے بھی اسرائیل کے خلاف مقدمے کے حق میں ہیں۔
اس مقدمے میں عدالت سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ اسرائیل کو غزہ میں فوجی آپریشن روکنے کا حکم دیا جائے تاہم اسرائیل نے نسل کشی کے الزام کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے سختی سے مسترد کر دیا تھا۔

خیال رہے کہ بین الااقوامی عدالت برائے انصاف جنوبی افریقا کے اسرائیل کے خلاف دائر مقدمے میں صرف اپنی رائے دے سکے گا کیونکہ یہ مقدمہ فوجداری مقدمہ نہیں ہے۔



