دینہ میں مبینہ طور پر ناقص اور ملاوٹ شدہ دودھ کی فروخت کا کاروبار جاری ہے جبکہ شہریوں نے پنجاب فوڈ اتھارٹی کی عدم توجہی پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔
شہریوں کے مطابق دینہ جی ٹی روڈ پر رات تقریباً تین بجے ناقص دودھ سے بھرے درجنوں سفید ڈرم اتارے جاتے ہیں، جہاں سے یہ دودھ دینہ شہر اور گردونواح کی آبادیوں میں سپلائی کیا جاتا ہے۔
مقامی شہریوں اور سماجی حلقوں کا کہنا ہے کہ مبینہ طور پر ملاوٹ شدہ اور مضرِ صحت دودھ کی ترسیل اور فروخت کے خلاف مؤثر کارروائی نہ ہونے کے باعث اس کاروبار میں ملوث عناصر کو کھلی چھوٹ مل رہی ہے۔ ان کے مطابق متعلقہ محکمہ کی جانب سے دودھ کے ڈرموں کی چیکنگ اور معیار کی جانچ کے لیے بھی خاطر خواہ اقدامات دکھائی نہیں دیتے۔
شہریوں نے شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اگر دودھ میں کیمیکل یا دیگر مضرِ صحت اجزا کی ملاوٹ ہو تو اس کا استعمال بچوں، بزرگوں اور عام شہریوں کی صحت کے لیے سنگین خطرات پیدا کر سکتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ملاوٹ کے خلاف مؤثر نگرانی نہ ہونے سے ایسے عناصر کی حوصلہ افزائی ہو رہی ہے۔
عوامی و سماجی حلقوں نے وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف اور پنجاب فوڈ اتھارٹی کے اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ دینہ جی ٹی روڈ پر رات کے وقت دودھ کے ڈرموں کی ترسیل اور فروخت کا فوری نوٹس لیا جائے، متعلقہ مقامات پر دودھ کے نمونے حاصل کرکے لیبارٹری ٹیسٹ کروائے جائیں اور اگر ملاوٹ ثابت ہو تو ذمہ دار عناصر کے خلاف قانون کے مطابق سخت کارروائی عمل میں لائی جائے۔
