جہلم میں خوشحالی بینک کا متاثرہ شہری قرضہ کلیئر ہونے کے باوجود حراسانی کا شکار

جہلم میں خوشحالی بینک کا متاثرہ شخص، حصول انصاف کے لیے دربدر ،ارباب اختیار سے تحفظ فراہم کرنے کا مطالبہ
متاثرہ شخص نے میڈیا نمائندگان سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ اس نے 2018 میں خوشحالی بینک سے ڈیڑھ لاکھ روپے قرضہ حاصل کیا تھا اور اس کی بیشتر قسطیں وقت پر جمع کروا دی تھیں۔ تاہم، قرضہ کلیئر کرنے کے سات سال بعد جب اسے دوبارہ قرضہ کی ضرورت پیش آئی اور وہ بینک گیا تو ملازمین نے اس کا آئی ڈی کارڈ چیک کرنے کے بعد کہا کہ اس کے اکاؤنٹ میں تقریباً 4 لاکھ روپے قرضہ بقایا ہے۔
متاثرہ شہری نے بتایا کہ اس نے چھ سال قبل تمام قسطیں جمع کروا کر قرضہ کلیئر کر دیا تھا اور اگر کوئی بقایا جات ہوتے تو بینک نے اس سے رابطہ کیوں نہیں کیا۔
متاثرہ شہری کا کہنا تھا کہ بینک ملازمین نے اس کے ساتھ بدتمیزی کی اور بینک منیجر سے سٹیٹمنٹ طلب کرنے پر اسے محض سادہ کاغذ پر بیان دیا گیا۔ بالآخر بینک انتظامیہ نے اس کے کیس کو سیٹلمنٹ کیا اور باضابطہ این او سی لیٹر جاری کیا، لیکن اس کے باوجود متعلقہ ادارے کے ملازمین مسلسل اسے ہراساں کر رہے ہیں کہ 30 ہزار روپے مزید جمع کرائے جائیں، ورنہ وہ دوبارہ نو سال تک کسی بھی بینک سے قرضہ نہیں لے سکتا۔

شہری نے ارباب اختیار سے اپیل کی ہے کہ اسے تحفظ فراہم کیا جائے تاکہ وہ باعزت زندگی گزار سکے اور بینک کی غیر قانونی حراسانی سے نجات حاصل ہو۔
متعلقہ حکام نے کہا ہے کہ بینکنگ سیکٹر میں اس قسم کے شکایات کی تحقیقات ضروری ہیں اور متاثرہ افراد کو بروقت انصاف فراہم کرنا حکومت اور مالیاتی اداروں کی ذمہ داری ہے۔



