دین اسلام انسان کو ذہنی غلامی سے نجات دے کر اللہ کی بندگی سکھاتا ہے، امیر عبدالقدیر اعوان

امیر عبدالقدیر اعوان شیخ سلسلہ نقشبندیہ اویسیہ و سربراہ تنظیم الاخوان پاکستان نے کہا ہے کہ دین اسلام بندۂ مومن کو ہر قسم کی ذہنی غلامی سے آزاد کر کے ایک اللہ وحدہٗ لا شریک کی اطاعت اور بندگی کی طرف لے آتا ہے، جو انسان کو باوقار، متوازن اور کامیاب زندگی عطا کرتی ہے۔
جمعۃ المبارک کے موقع پر اپنے خطاب میں انہوں نے کہا کہ جس شخص کو ایمان کی حالت میں نبی کریم ﷺ کی صحبت نصیب ہوئی، وہ عظیم درجہ صحابیت پر فائز ہوا۔ انہوں نے کہا کہ رسول اللہ ﷺ امام الانبیاء ہیں، اس کے باوجود آپ ﷺ اہم معاملات اور دنیاوی امور میں اپنے صحابہ کرامؓ سے مشاورت فرمایا کرتے تھے، جس سے مشورے کی اہمیت اور اس کی اسلامی حیثیت واضح ہوتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ مشورہ حکم نہیں بلکہ ایک رائے ہوتا ہے، جسے قبول کرنا یا نہ کرنا فیصلہ کرنے والے کا اختیار ہے۔ اگر کسی کی رائے پر عمل نہ کیا جائے تو ناراضگی کا اظہار مناسب نہیں، کیونکہ مشورہ ایک امانت ہے اور اس میں خیانت نہیں ہونی چاہیے۔ اگر کوئی شخص مشورہ طلب کرے تو دیانت داری اور خیرخواہی کے ساتھ بہترین رائے دینا مسلمان کی ذمہ داری ہے۔
امیر عبدالقدیر اعوان نے کہا کہ اسلام کے سنہری اصول زندگی کے ہر شعبے میں ہماری رہنمائی کرتے ہیں اور یہی وہ اصول ہیں جن پر عمل کر کے معاشرے امن، عدل اور خوشحالی کی منزل حاصل کر سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ آج امت مسلمہ اور وطن عزیز کو جن مشکلات کا سامنا ہے، ان سے نکلنے کا راستہ بھی قرآن و سنت کی تعلیمات پر عمل کرنے میں مضمر ہے۔
انہوں نے ملک کی موجودہ صورتحال کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ آئے روز وطن کے بہادر سپوت شہادت کا رتبہ پا رہے ہیں۔ اگر مسلمان اللہ تعالیٰ کے عطا کردہ احکامات اور رسول اکرم ﷺ کی مقرر کردہ حدود و قیود پر عمل پیرا ہو جائیں تو معاشرے میں بہت سے مسائل جنم ہی نہ لیں۔ انہوں نے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ وطن عزیز پاکستان کی حفاظت فرمائے، شہداء کی قربانیوں کو شرفِ قبولیت عطا کرے اور قوم کو اتحاد و استحکام نصیب فرمائے۔
انہوں نے بتایا کہ سلسلہ نقشبندیہ اویسیہ کے مرکز دارالعرفان منارہ میں چالیس روزہ سالانہ روحانی تربیتی اجتماع جاری ہے، جس کا اختتامی بیان اور اجتماعی دعا 12 جولائی بروز اتوار ہوگی۔ اس موقع پر ملک بھر سے سالکین کی بڑی تعداد شرکت کرے گی۔
آخر میں انہوں نے عوام الناس کو دعوت دیتے ہوئے کہا کہ اس بابرکت روحانی اجتماع میں شرکت کر کے اپنے قلوب کو برکاتِ نبوت ﷺ سے منور کریں اور روحانی فیوض و برکات سے مستفید ہوں۔



