جہلم: رواں مالی سال 25-2024کے وفاقی بجٹ کے نفاذ کے بعد سے ملک میں مہنگائی کی شرح میں اضافے کا رجحان برقرار ہے، حالیہ ہفتے ملک میں مہنگائی کی شرح میں 0 اعشاریہ 17فیصداضافہ ہوا اور 19 اشیا کی قیمتیں بڑھ گئیں۔
وفاقی ادارہ شماریات کی جانب سے جاری کردہ مہنگائی کی ہفتہ وار رپورٹ کے مطابق حالیہ ہفتے مہنگائی کی شرح میں 0 اعشاریہ 17فیصداضافہ ہوا، ایک ہفتے کےد وران 19 اشیا کی قیمتیں بڑھ گئیں، 8 اشیا کی قیمتوں میں کمی آئی جبکہ 24 اشیا کے نرخ مستحکم رہے۔
رپورٹ کے مطابق رواں ہفتے چکن کی قیمت میں 4 اعشاریہ 80 فیصد، لہسن 2 اعشاریہ 01 فیصد، دال چنا 1 اعشاریہ 87 فیصد، انڈے1 اعشاریہ 71 فیصد ،بیف کی قیمت میں 0 اعشاریہ 93 فیصد اور گڑ کی قیمتوں میں 0 اعشاریہ 89فیصد اضافہ ہوا۔
اسی طرح دال مونگ کی قیمت میں 0 اعشاریہ 84فیصد،تازہ کھلا دودھ 0 اعشاریہ 45فیصد،آگ جلانے والی لکڑی 0 اعشاریہ 23 فیصداورسگریٹ کی قیمتوں میں 0 اعشاریہ 12فیصداضافہ ہوا۔
دوسری جانب آلو کی قیمت میں 0 اعشاریہ 17 فیصد، ٹماٹرکی قیمت میں 9 اعشاریہ 19 فیصد،پیاز2 اعشاریہ 14 ایل پی جی1 اعشاریہ 04 فیصد، کیلے 0 اعشاریہ 53 فیصد، دال مسورقیمت میں 0 اعشاریہ 16 فیصد، بریڈ کی قیمت میں 0 اعشاریہ 05 فیصد اور آٹے کی قیمت میں 0 اعشاریہ 35 فیصد کمی ہوئی ہے۔
اعدادوشمار میں بتایا گیا ہے کہ حالیہ ہفتے کے دوران حساس قیمتوں کے اشاریہ کے لحاظ سے سالانہ بنیادوں پر 17 ہزار 732روپے ماہانہ تک آمدنی رکھنے والے طبقے کیلیے مہنگائی کی شرح0 اعشاریہ 08فیصد اضافے کے ساتھ41 اعشاریہ 13فیصد، 17 ہزار 733روپے سے 22 ہزار 888روپے ماہانہ تک آمدنی رکھنے والے طبقے کیلیے مہنگائی کی شرح 0 اعشاریہ 13 فیصداضافے کے ساتھ18 اعشاریہ 53فیصد ہوگئی۔
22 ہزار 889روپے سے 29 ہزار 517 روپے ماہانہ تک آمدنی رکھنے والے طبقے کیلیے مہنگائی کی شرح0 اعشاریہ 15 فیصداضافے کے ساتھ 22 اعشاریہ 23 فیصد اور 29 ہزار 518روپے سے 44ہزار 175 روپے ماہانہ تک آمدنی رکھنے والے طبقے کیلیے مہنگائی کی شرح0 اعشاریہ 18 فیصداضافے کے ساتھ 19 اعشاریہ 77فیصد رہی۔
اسی طرح 44 ہزار 176روپے ماہانہ سے زائد آمدنی رکھنے والے طبقے کیلیے مہنگائی کی شرح0 اعشاریہ 19 فیصداضافے کے ساتھ 18 اعشاریہ 41فیصدرہی۔
