دو ہفتے کمی کے بعد مہنگائی میں پھر اضافہ شروع
ضلع جہلم سمیت ملک بھر میں مہنگائی کی شرح میں مسلسل دو ہفتے کمی کے بعد حالیہ ہفتے مہنگائی میں پھر اضافہ شروع ہوگیا ہے۔
وفاقی ادارۂ شماریات کی جانب سے جاری رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ حالیہ ہفتے کے دوران ہفتہ وارمہنگائی کی شرح میں0 اعشاریہ 37فیصد اضافہ ہوا ہے جبکہ سالانہ بنیاد پر مہنگائی کی شرح بھی43 اعشاریہ 25فیصدکی ریکارڈ سطع پر پہنچ گئی ہے۔
مہنگائی کی ہفتہ وار رپورٹ کے اعداد و شمار کے مطابق ایک ہفتے کے دوران 15 اشیاء کی قیمتوں میں اضافہ جبکہ 9 کی قیمتوں میں کمی ہوئی اور27 اشیائے ضروریہ کی قیمتیں مستحکم رہی ہیں۔
اعدادوشمار میں بتایا گیا ہے کہ حالیہ ایک ہفتے کے دوران پیاز،چکن،مٹن بیف اور دالوں سمیت کئی اشیاء مہنگی ہوئیں جن میں پیاز کی قیمتوں میں15 اعشاریہ 21 فیصد، چکن کی قیمتوں میں4 اعشاریہ 76 فیصد، دال مونگ کی قیمتوں میں2 اعشاریہ 90 فیصد، دال چنا کی قیمتوں میں2 اعشاریہ 89 فیصد، چینی کی قیمتوں میں 1 اعشاریہ 35فیصد، دال مسور کی قیمتوں میں0 اعشاریہ 78 فیصد اور دال ماش کی قیمتوں میں0 اعشاریہ 54 فیصد اضافہ ہوا ہے۔
رپورٹ کے مطابق آلو کی قیمتوں میں8 اعشاریہ 66 فیصد،ٹماٹر کی قیمتوں میں 1 اعشاریہ 01فیصد،ویجیٹیبل گھی کی قیمتوں میں0 اعشاریہ 61 فیصد، ککنگ آئل کی قیمتوں میں0 اعشاریہ 44 فیصد، انڈوں کی قیمتوں میں0 اعشاریہ 40 فیصد،سرسوں کے تیل کی قیمتوں میں0 اعشاریہ 24 فیصد، گڑ کی قیمتوں میں0 اعشاریہ 19 فیصد اور لہسن کی قیمتوں میں0 اعشاریہ 15 فیصد کمی واقع ہوئی ہے۔
ماہانہ آمدن کے حساب سے مہنگائی کی شرح
ادارہ شماریات کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ 17 سے 22 ہزار 888 روپے تک ماہانہ تک آمدنی والے طبقے کیلئے مہنگائی کی شرح میں40 اعشاریہ 74فیصد، 22 ہزار 889روپے سے 29 ہزار 517 روپے ماہانہ تک آمدنی رکھنے والے طبقے کیلئے مہنگائی کی شرح میں46 اعشاریہ 99فیصد تک پہنچ گئی ہے۔
اسی طرح 29 ہزار 518 روپے سے 44 ہزار 175 روپے ماہانہ تک آمدنی رکھنے والے طبقے کیلئے مہنگائی کی شرح 44 اعشاریہ 26فیصد رہی جبکہ 44 ہزار 176روپے ماہانہ سے زائد آمدنی رکھنے والے طبقے کیلئے مہنگائی کی شرح 41 اعشاریہ 60فیصدرہی ہے۔



