ڈومیلی کے سرکاری ہائی سکولز میں جماعت نہم کا مایوس کن نتیجہ، والدین پریشان

سوہاوہ: ڈومیلی اور گردونواح کے تمام گورنمنٹ ہائی سکولز میں جماعت نہم کے امتحانات کے نتائج انتہائی مایوس کن رہے، جس سے والدین میں شدید تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے۔ سوال اٹھنے لگے ہیں کہ یہ خراب نتائج حکومت کی ناقص حکمت عملی کا نتیجہ ہیں یا طلبا کی محنت میں کمی کا؟ رواں سال نہ صرف لڑکے بلکہ لڑکیاں بھی نمایاں طور پر ناکام رہیں۔
گورنمنٹ بوائز ہائی سکول دیال میں 54 طلبا پاس ہوئے جبکہ 24 فیل ہوگئے۔ گورنمنٹ گرلز ہائی سکول بڑاگواہ میں 98 بچیوں میں سے 20 بچیاں فیل ہوئیں جبکہ گورنمنٹ گرلز ہائر سکینڈری سکول ڈومیلی میں صورتحال انتہائی تشویشناک رہی جہاں 128 بچیاں فیل ہوگئیں اور صرف 26 پاس ہوسکیں۔ اس کے برعکس روہتاس انٹرنیشنل سکول جھنگ چک نے شاندار کارکردگی دکھاتے ہوئے سو فیصد نتیجہ دیا، تمام بچیاں کامیاب رہیں۔
گورنمنٹ بوائز ہائی سکول بڑاگواہ میں 38 طلبا فیل جبکہ 32 پاس ہوئے۔ گورنمنٹ بوائز ہائی سکول اڈرانہ میں 12 فیل اور صرف 4 پاس ہوئے۔ گورنمنٹ ہائر سکینڈری سکول ڈومیلی میں 120 طلبا فیل اور 43 پاس ہوئے، جبکہ گورنمنٹ بوائز ہائی سکول نگیال میں 29 فیل اور 6 پاس ہوئے۔ اسی طرح گورنمنٹ ہائی سکول ججیال میں 39 طلبا فیل اور 46 پاس ہوئے۔
گورنمنٹ ہائی سکول گتر میں صورتحال انتہائی خراب رہی جہاں 20 طلبا فیل جبکہ صرف 3 پاس ہوسکے۔ گورنمنٹ ہائی سکول ککرالہ میں 21 طلبا فیل اور محض 2 پاس ہوئے۔ لڑکیوں کے سکولز میں بھی کارکردگی غیر تسلی بخش رہی۔ گورنمنٹ گرلز ہائی سکول نگیال میں 43 بچیوں میں سے 9 فیل ہوئیں۔
گورنمنٹ گرلز ہائی سکول گوڑہا اتم سنگھ میں 43 بچیوں میں سے صرف 18 پاس ہوسکیں۔ گورنمنٹ گرلز ہائی سکول ککرالہ میں 21 میں سے 6 فیل ہوئیں، جبکہ گورنمنٹ گرلز ہائی سکول رسولپور میں 34 بچیوں میں سے صرف 11 پاس ہوئیں۔ اس کے علاوہ گورنمنٹ گرلز ایلیمنٹری سکول پدھری میں 20 بچیوں میں سے صرف 2 فیل ہوئیں۔
نتائج کے اس افسوسناک منظرنامے پر والدین نے سخت تشویش کا اظہار کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ سرکاری تعلیمی اداروں میں معیارِ تعلیم کو بہتر بنانے کے لیے حکومت فوری اقدامات کرے۔ تعلیمی ماہرین کے مطابق تدریسی عمل میں بہتری، اساتذہ کی کارکردگی کا سخت جائزہ اور طلبا کی رہنمائی کے بغیر حالات بہتر نہیں ہوسکتے۔



