یوسی اڈرانہ کا گاؤں ڈھوک باباکالو جدید دور میں بھی بےشمار مسائل کا شکار، حکمران اور منتخب نمائندے غائب

سوہاوہ کی یونین کونسل اڈرانہ کا گاؤں ڈھوک باباکالو آج بھی بنیادی شہری سہولیات سے محروم ہے۔ علاقہ مکینوں کا کہنا ہے کہ جدید دور میں بھی گاؤں کو سیوریج، پختہ گلیوں، لنک روڈ، نکاسیٔ آب اور بجلی کی مناسب فراہمی جیسے بنیادی مسائل کا سامنا ہے جبکہ منتخب نمائندے عوامی مسائل کے حل کے لیے کوئی مؤثر کردار ادا نہیں کر رہے۔
مقامی افراد کے مطابق گاؤں میں سیوریج کا کوئی باقاعدہ نظام موجود نہیں، گلیاں کچی ہیں اور مرکزی شاہراہ سے ملانے والی لنک روڈ بھی تعمیر نہیں کی گئی، جس کے باعث آمدورفت میں شدید مشکلات پیش آتی ہیں۔ اگرچہ بجلی کی سہولت موجود ہے، تاہم کم وولٹیج کے باعث گھریلو صارفین کو روزمرہ امور کی انجام دہی میں شدید دشواری کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
اہلِ علاقہ کا کہنا ہے کہ گاؤں کے قریب سے گزرنے والا برساتی نالہ بارشوں کے دوران پانی سے بھر جاتا ہے، جس کے باعث سڑک زیرِ آب آ جاتی ہے اور ڈھوک باباکالو کا دیگر علاقوں سے زمینی رابطہ منقطع ہو جاتا ہے۔ پانی اترنے اور راستہ خشک ہونے تک مقامی آبادی عملی طور پر محصور رہتی ہے، جس سے طلبہ کی تعلیمی سرگرمیاں اور ملازمین کی دفتری حاضری بھی متاثر ہوتی ہے۔
مکینوں کے مطابق سب سے زیادہ مشکلات ہنگامی طبی صورتحال میں پیش آتی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر کوئی شخص بیمار ہو جائے تو اسے کیچڑ اور پانی سے گزر کر تقریباً تین کلومیٹر دور مرکزی سڑک تک چارپائی پر اٹھا کر لے جانا پڑتا ہے تاکہ اسے ہسپتال منتقل کیا جا سکے۔
علاقہ مکینوں نے دعویٰ کیا کہ قیامِ پاکستان سے آج تک کسی بھی منتخب نمائندے نے گاؤں میں خاطر خواہ ترقیاتی کام نہیں کرایا۔ ان کے مطابق انتخابات کے دوران کیے جانے والے وعدے ووٹ حاصل کرنے کے بعد عملی شکل اختیار نہیں کرتے اور عوام بنیادی سہولیات سے محروم رہتے ہیں۔
اہلیانِ ڈھوک باباکالو نے وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف، رکن قومی اسمبلی چوہدری فرخ الطاف اور متعلقہ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ گاؤں کی ابتر صورتحال کا فوری نوٹس لیا جائے اور گلیوں، نالیوں، لنک روڈ، نکاسی آب کے نظام اور برساتی نالے پر پل کی تعمیر کے لیے ہنگامی بنیادوں پر فنڈز جاری کیے جائیں تاکہ علاقہ مکینوں کو درپیش دیرینہ مسائل کا مستقل حل ممکن بنایا جا سکے۔
نوٹ: خبر میں ترقیاتی سہولیات کی عدم دستیابی اور منتخب نمائندوں سے متعلق مؤقف مقامی رہائشیوں کے بیانات اور دعوؤں پر مبنی ہے۔ متعلقہ حکام یا منتخب نمائندوں کا مؤقف موصول ہونے پر اسے بھی خبر میں شامل کیا جا سکتا ہے۔



