نئے تعلیمی سال کا آغاز؛ پرائیویٹ تعلیمی اداروں کے مالکان والدین کی جیبیں ہلکی کرنے لگے

جہلم: نئے تعلیمی سال کا آغاز ہوتے ہی پرائیویٹ تعلیمی اداروں کے مالکان بھر پور طریقے سے متحرک، نا جائز منافع خوروں سے ملکر والدین کی جیبیں ہلکی کرنا شروع کر دیں۔
نتائج کا اعلان ہوتے ہی کتابوں کی دکانوں پر رش بڑھ جاتا ہے جبکہ پرائیویٹ تعلیمی اداروں کے مالکان نے حکومت کی کمزور گرفت کا فائدہ اٹھاتے ہوئے والدین پر بھاری بوجھ لادنے کی ٹھان لی ہے۔
ذرائع کے مطابق پرائیویٹ سکولزمالکان نے اپنے مقرر کردہ ڈیلرز کو کتب کی فہرست کیساتھ ساتھ نرخ نامہ پیکیج کی صورت میں دے رکھا ہے جو کہ کتابوں کی اصل قیمت سے کئی گنا زیادہ ہے جبکہ بک سیلرزبھی نجی تعلیمی اداروں کی سرپرستی میں والدین و بچوں کا استحصال کرنے میں مصروفِ عمل ہیں جن کتب پر قیمت درج بھی ہے انہیں بھی مہنگے داموں پیکج کے نام پر فروخت کیا جا رہا ہے۔
اگر کوئی خریدار بک سیلرز سے پوچھے تو بک سیلز کا کہنا ہوتا ہے کہ سکولز انتظامیہ نے پیکیج کے مختلف ریٹ طے کر رکھے ہیں اور انہیں اسی بنیاد پر ادائیگی کرنا ہوتی ہے ، جس کے باعث سستی کتب مہیانہیں کر سکتے۔
سنجیدہ حلقوں کا کہنا ہے کہ حکومت کو عوامی شکایات کا نوٹس لیتے ہوئے زائد قیمتیں وصول کرنے والے بک سیلرز اور سکولز مالکان کے خلاف کارروائیاں کرنی چاہیے اور اضافی نرخ درج کرنے والے بک سیلرز سے تمام کتب بحق سرکار ضبط کرلینی چاہئے تاکہ متوسط طبقہ سے تعلق رکھنے والے والدین کو ریلیف مل سکے ۔



