جب کسی ملک کو زیر کرنا ہو تو اس کو معاشی طور پرکمزور کیا جاتا ہے، امیر عبدالقدیر اعوان

امیر عبدالقدیر اعوان نے کہا کہ جب کسی ملک کو زیر کرنا ہو تو اس کو معاشی طور پرکمزور کیا جاتا ہے، معاشی نظام کو ٹارگٹ کیا جاتا ہے۔دین اسلام زندگی کے ہر پہلو میں راہنمائی فرماتا ہے۔باہم لین دین پر بہت مسائل پیدا ہوتے ہیں، فساد کیا جاتا ہے۔

امیر عبدالقدیر اعوان شیخ سلسلہ نقشبندیہ اویسیہ و سربراہ تنظیم الاخوان پاکستان نے جمعتہ المبارک کے روز خطاب کرتے ہوئے کہا کہ جب لین دین ہوگا تو اس کی حدودوقیودبھی ہوں گی تودین اسلام لین دین کے معاملے میں فرماتا ہے کہ اپنے لین دین کو تحریر میں لے آؤ اور گواہ کر لو ایک معاہدہ طے پا جائے۔تا کہ لین دین میں بھی عدل قائم رہے کوئی کسی کے ساتھ زیادتی نہ کر سکے۔

انہوں نے کہا کہ آج معاشرے کا یہ بہت بڑا مسئلہ ہے کہ لین دین کیا جاتا ہے لیکن تحریر میں نہیں لایا جاتا نہ گواہ کیے جاتے ہیں بعد میں مسائل پیدا ہوتے ہیں تعلق خراب ہوتے ہیں رشتے ٹوٹ جاتے ہیں اس لین دین کی وجہ سے۔دین اسلام کا ایک ایک حکم معاشرے کی بہتری کے لیے ہے۔

امیر عبدالقدیر اعوان نے کہا کہ دین اسلام نے کمانے سے لے کر خرچ کرنے تک اصول اور ضابطے مقرر فرمائے ہیں۔ باقی دنیا کے جتنے بھی نظام ہیں وہ صرف کمانے پر بات کرتے ہیں لیکن اسلام کی خوبصورتی ہے کہ خرچ کرنے پر بھی حدودوقیود مقرر فرمائی ہیں۔ ہمیں ہر کام میں دین اسلام کی راہنمائی سے استفادہ حاصل کرنا چاہیے بے عملی کی زندگی مزاج تک کو خراب کر دیتی ہے پھر دوسرے کی اچھائی بھی اچھائی نہیں لگتی۔

انہوں نے کہا کہ بحیثیت مسلمان ہمیں اللہ کریم کے ہر حکم کو اپنی زندگی پر نافذ کرنے کی ضرورت ہے۔کون سا رشتہ اللہ کریم کے رشتے سے اعلی ہو سکتا ہے جو ہمیں اللہ کریم کے احکامات پر عمل کرنے سے روکے۔ جو بھی کسی کے پاس استعداد ہے وہ اللہ کی مخلوق کی بھلائی کے لیے جہاں ضرورت پڑے ضروراستعمال کرے انکار نہ کرے یہ استعداد بھی اللہ کریم کی عطاء ہے۔ اللہ کریم صحیح شعور عطاء فرمائے۔

یاد رہے کہ سلسلہ نقشبندیہ اویسیہ کے مرکز دارالعرفان منارہ میں 40 روزہ سالانہ روحانی تربیتی اجتماع جاری ہے جس میں ملک و بیرون ممالک سے سالکین سلسلہ عالیہ اپنی تربیت کے لیے تشریف لائے ہیں۔ اجتماع کی اختتامی دعا ان شاء اللہ 11 اگست بروز اتوار دن گیارہ بجے ہوگی۔ امیر عبدالقدیر اعوان اپنے خطاب کے بعد اجتماعی دعا بھی فرمائیں گے، ہر خاص و عام کو اس بابرکت اجتماع میں شرکت کی دعوت دی جاتی ہے۔

آخر میں انہوں نے ملکی سلامتی اور بقا کی اجتماعی دعا بھی فرمائی۔

Exit mobile version