حکومت مساجد کے بجلی کے بل از خود جمع کروائے یا مساجد کی بجلی کو فری کر دے

جہلم: حکومت مساجد کے بجلی کے بل از خود جمع کروائے یا مساجد کی بجلی کو فری کر دے، بڑے بڑے افسران کو تو بجلی مفت دی جارہی ہے۔ اللہ کے گھر کو کیوں نہیں؟ ،مساجد کے خادمین کی گفتگو ،بجلی کا بل ادا نہ کر سکنے کی وجہ سے بیشتر مساجد کو تالے لگ چکے ہیں۔
کئی مساجد ایسی ہیں جہاں بجلی کا بل 50 ہزار سے زائد آیا اور مساجد کے اتنے وسائل ہی نہیں کہ وہ بل جمع کرواسکیں۔مساجد کے خادمین بھی پریشان دکھائی دیتے ہیں پہلے محلہ کے لوگ چندہ دیتے تھے لیکن اب ہر فرد پریشان ہے مساجدمیں اب بہت کم چندہ جمع ہوتا ہے حکومت اس پر غور کرے ۔
رپورٹ کے مطابق بجلی کے ہوشر بابلوں کا اثر مساجد پر بھی پڑنا شروع ہو گیا۔بیشتر مساجد کے بجلی کے بلز جمع نہ ہونے پر مساجد کو تالے لگنے کی اطلاعات موصول ہونے لگیں۔
اس حوالے سے مساجد کے خادمین کا کہنا ہے کہ حکومت مساجد کے بجلی کے بلز از خود جمع کروائے یا مساجد اور مدرسوں کی بجلی فری کر دے، لاکھوں افسران کو مفت بجلی کی سہولت مہیا کی جارہی ہے ، حکومت اللہ کے گھروں اور دینی تعلیمی اداروں میں بجلی فری نہیں دے سکتی وزراء اور مشیروں کو تو سہولیات کے ساتھ ساتھ کئی اشیاء کی مفت فراہمی جبکہ مساجد میں بجلی کے بھاری بل بھجوانا ستم ظریفی کے برابر ہے جبکہ کئی مساجد کے بجلی کے بلوں میں ٹی وی فیس بھی شامل کی گئی۔
مساجد کے خادمین نے مزید کہا کہ پہلے مساجد کو چندے کی مد میں کافی آمدن ہوجاتی تھی لیکن جب سے ہوشربا مہنگائی اوریوٹیلیٹی بلزمیں اضافہ ہوا ہے ہر فرد پریشان ہے اور مساجد میں چندہ بھی کم جمع ہو رہا ہے حکومت مساجد اور مدارس کی بجلی فری کرے یا مساجد کے بل از خود جمع کروائے تاکہ بلز جمع نہ ہونے کی صورت میں مساجد کو تالے نہ لگ سکیں۔



