غیر یورپی ملکوں سے طلبہ کی بڑی تعداد برطانیہ آرہی ہے، ایما رورک

لندن: ادارۂ قومی شماریات کی نائب ایما رورک نے کہا ہے کہ بہت بڑی تعداد میں طلبہ نہ صرف برطانیہ آ رہے ہیں بلکہ ویزا کی مدت سے زیادہ دیر تک قیام بھی کر رہے ہیں.
انہوں نے کہا بین الاقوامی طلبہ برطانیہ میں غیر یورپی یونین ممالک سے آنے والوں کا سب سے بڑا گروپ ہے جب کہ عام طور پر طلبہ پانچ سال کے اندر برطانیہ چھوڑ دیتے ہیں، بہت سے بین الاقوامی طلبہ اب کام کے ویزوں پر جا رہے ہیں جیسے کہ ایک نیا گریجویٹ ویزا، جو یونیورسٹی کے فارغ التحصیل افراد کو مزید دو سال تک برطانیہ میں رہنے کی اجازت دیتا ہے یا تین سال مزیداگر ان کے پاس پی ایچ ڈی کی ڈگری ہے.
او این ایس کے مطابق ڈیپینڈنٹ ویزا والے لوگ بھی بڑی تعداد میں آ رہے ہیں، اعداد و شمار کے مطابق پچھلے سال 135,788 ویزے غیر ملکی طلبہ کے زیر کفالت افراد کو دیئے گئے جو 2019 کے اعداد و شمار سے تقریباً 09 گنا زیادہ ہیں.
رواں سال مئی میں سابق ہوم سیکرٹری سویلا بریورمین نے کہا تھا کہ وہ اس طریقۂ کار کو سخت کرنا چاہتی ہیں۔ اس اعلان کے ساتھ کہ تحقیقی کورسز میں صرف بین الاقوامی پوسٹ گریڈ طلبہ کو اپنے خاندان کے افراد کو ساتھ لانے کی اجازت ہو گی اور یہ اصول جنوری 2024 سے نافذ العمل ہوگا۔



