پنڈدادنخان/ جہلم: پنڈدادنخان کے نجی سکول میں 10 سالہ طالبہ کو زیادتی کا نشانہ بنانے والے گرفتار ملزم کینٹین کے ٹھیکیدار نے پولیس کے سامنے متعدد مرتبہ سکول میں بچی کو زیادتی کا نشانہ بنانے کا اعتراف کر لیا، متاثرہ بچی کے ابتدائی میڈیکل رپورٹ میں زیادتی کی تصدیق ہوئی، سی ای او ایجوکیشن نے سکول کو تاحکم ثانی بند کرنے کے احکامات جاری کر رکھے ہیں۔
تفصیلات کے مطابق 11 روز قبل جہلم کی تحصیل پنڈدادنخان کے نجی سکول (ایجوکیٹر سکول) میں دس سالہ طالبہ سے زیادتی کے معاملے میں بڑی پیشرفت سامنے آئی ہے۔ سکول کینٹین کے ٹھیکیدار ملزم امتیاز نے اعتراف جرم کر لیا ہے۔
پولیس کے مطابق ملزم امتیاز نے بچی کو سکول میں ہی متعدد مرتبہ زیادتی کا نشانہ بنایا، ابتدائی میڈیکل رپورٹ میں زیادتی کی تصدیق بھی ہوچکی ہے۔ میڈیکل رپورٹ کی کاپی جہلم اپڈیٹس نے حاصل کر لی ہے۔ سکول میں زیادتی کے واقعہ کے بعد سی ای او ایجوکیشن نے سکول میں تعلیمی سرگرمیاں معطل کر کے سکول کو تاحکم ثانی بند کردیا ہے۔
یاد رہے کہ واقعہ 11روز قبل پیش آیا تھا کہ سکول کینٹین کے ٹھیکیدار امتیاز نے دس سالہ طالبہ کو زیادتی کا نشانہ بنایا اور بچی سکول سے جب گھر واپس گئی تو گھر جانے کے بعد بچی کی طبیعت خراب ہوئی اور طالبہ کو اسپتال منتقل کیا گیا تو سارے واقعے کا ڈراپ سین ہو گیا۔
پولیس کا یہ بھی کہنا ہے کہ ڈی این اے کے لئے نمونے لاہور لیبارٹری بجھوادیے گئے ہیں اور ملزم سے مزید تفتیش کا عمل جاری ہے۔
دوسری جانب مالکان کی طرف سے سکول میں تعلیمی سرگرمیاں شروع کرنے کے لئے سکول انتظامیہ پوری طرح متحرک ہے۔ سکول کو اوپن کروانے کے لئے ہاتھ پاںں مارے جارہے ہیں۔
متاثرہ بچی کے اہلخانہ کا کہنا ہے کہ سکول کو اگر کھولا گیا تو بھرپور احتجاج کریں گے۔ بچی کے بھائی نے سکول کھولنے پر خودکشی کی دھمکی دے دی ہے۔
انجمن تاجراں پنڈدادنخان نے بھی متاثرہ بچی کے اہل خانہ سے اظہار یکجہتی کرتے ہوئے سکول کو بند رکھنے کا مطالبہ کیا ہے۔
