حضرت محمد ﷺ کی ذات بے مثل و مثال، آپ ﷺ رحمۃ للعالمین ہیں۔ امیر عبدالقدیر اعوان

گوجرانوالا: امیر عبدالقدیر اعوان نے کہا ہے کہ حضرت محمد ﷺ کی ذات بے مثل و مثال ہے، آپ ﷺ رحمۃ للعالمین ہیں۔ ماہِ ربیع الاول وہ بابرکت مہینہ ہے جس میں حضور اکرم ﷺ اس دنیا میں جلوہ افروز ہوئے اور آپ ﷺ کی ذاتِ اقدس سے تمام مخلوقات مستفید ہوئیں۔ ولادتِ باسعادت کی خوشی اور اظہارِ محبت کے ساتھ حدود و قیود کا خیال رکھنا بھی ضروری ہے۔
گوجرانوالا میں بعثتِ رحمتِ عالم ﷺ کانفرنس سے خواتین و حضرات کی بڑی تعداد سے خطاب کرتے ہوئے شیخ سلسلہ نقشبندیہ اویسیہ و سربراہ تنظیم الاخوان پاکستان امیر عبدالقدیر اعوان نے کہا کہ دین میں رواجات کو شامل نہیں کرنا چاہیے، کیونکہ درِ مصطفیٰ ﷺ پر محبت بھی اصول و ضوابط کی پابند ہے۔
انہوں نے معجزاتِ نبوی ﷺ کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ حضور اکرم ﷺ تمام مخلوقات کے لیے باعثِ رحمت ہیں۔ انہوں نے شقِ قمر اور دیگر معجزات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ قرآنِ مجید میں شقِ قمر کی شہادت موجود ہے۔
امیر عبدالقدیر اعوان نے کہا کہ ماہِ ربیع الاول میں حضور اکرم ﷺ کی شان میں پروگرامز کا انعقاد ضرور کیا جائے، جن میں سیرتِ پاک کے واقعات بیان کیے جائیں، صدقہ و خیرات کیا جائے اور ایسے منظم اجتماعات منعقد کیے جائیں جن میں تعلیم و تعلم کا اہتمام ہو۔ انہوں نے زور دیا کہ کسی بھی ایسی بات یا طرزِ عمل سے اجتناب کیا جائے جو اسلامی حدود سے تجاوز یا بدتمیزی کا باعث بنے۔
انہوں نے کہا کہ اللہ کریم نے ہمیں اسلام کی حدود کے اندر رہنے کی تعلیم دی ہے، اس لیے ہر شخص کو اپنا جائزہ لینا چاہیے کہ اس کی سوچ، کردار اور عمل اسلامی حدود کے مطابق ہیں یا نہیں۔ ہمیں یہ دیکھنے کی ضرورت ہے کہ ہم اپنی زندگی کے کن معاملات میں حدود سے تجاوز کر رہے ہیں۔
امیر عبدالقدیر اعوان نے مزید کہا کہ اس وقت حج و عمرہ کی ادائیگی کا سلسلہ جاری ہے اور مساجد میں بھی نمازیوں کی بڑی تعداد موجود ہوتی ہے، انفرادی طور پر تسبیحات بھی پڑھی جاتی ہیں، لیکن اس کے باوجود معاشرے میں ان عبادات کا مطلوبہ اثر دکھائی نہیں دے رہا۔ ان کے مطابق اس کی ایک بڑی وجہ یہ ہے کہ ہماری محنت قلوب پر نہیں ہو رہی۔
انہوں نے کہا کہ اس کے لیے شعبۂ تصوف میں ذکرِ قلبی کو اختیار کرنے کی ضرورت ہے، جو انسان کے باطن سے تبدیلی کا آغاز کرتا ہے اور اسے ایسی کیفیت تک لے جاتا ہے کہ وہ تنہائی میں بھی اپنے رب کے روبرو ہونے کا احساس کرے۔
کانفرنس کے دوران بڑی تعداد میں افراد نے سلسلۂ عالیہ میں ظاہری بیعت کی، جبکہ انہیں طریقہ ذکر بھی بتایا گیا۔ یہ امیر عبدالقدیر اعوان کا سلسلۂ عالیہ کے حوالے سے پانچواں پروگرام تھا جس میں خواتین و حضرات کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔
کانفرنس کے اختتام پر ملکی سلامتی، استحکام اور بقا کے لیے خصوصی اجتماعی دعا بھی کی گئی۔



