جہلم: عید الاضحیٰ کی آمد قریب آتے ہی جہلم شہر میں خود ساختہ اور غیرقانونی مویشی منڈیاں قائم ہونا شروع ہو گئی ہیں، تاہم ان منڈیوں میں قربانی کے جانور خریدنے والے خریدار نہ ہونے کے برابر ہیں۔ شہریوں نے انتظامیہ کی خاموشی پر سخت تشویش کا اظہار کیا ہے۔
عید الاضحیٰ میں تین ہفتوں سے بھی کم وقت رہ گیا ہے، مگر جہلم شہر کے مختلف علاقوں جن میں جادہ، جی ٹی روڈ، میجر ملک محمد اکرم شہید روڈ، ڈھوک جمعہ روڈ، چونترہ اور کھرالہ شامل ہیں، کی سڑکوں پر بیوپاریوں نے بغیر کسی سرکاری اجازت کے مویشی منڈیاں سجا لی ہیں۔
جنوبی پنجاب اور دیگر علاقوں سے بیوپاری بکرے، دنبے اور بیل فروخت کے لیے شہر لا چکے ہیں، مگر خریداروں کی دلچسپی نہ ہونے کے برابر ہے۔ مہنگائی، گرمی اور وبائی خدشات کی وجہ سے شہری خریداری سے گریزاں دکھائی دیتے ہیں۔
بیوپاریوں نے شکایت کی ہے کہ نہ تو محکمہ حیوانات کی جانب سے کانگو وائرس سے بچاؤ کے لیے کسی قسم کا اسپرے کیا گیا ہے، نہ ہی بیمار جانوروں کی جانچ کے لیے کوئی کیمپ لگایا گیا ہے۔ انتظامیہ کی جانب سے بھی مویشی منڈیوں میں صفائی، پانی اور دیگر سہولیات کا کوئی انتظام نظر نہیں آ رہا۔
شہریوں نے ڈپٹی کمشنر جہلم سے مطالبہ کیا ہے کہ شہر بھر میں قائم خود ساختہ مویشی منڈیوں کا فوری نوٹس لیا جائے، مویشی منڈیوں کے لیے باقاعدہ پوائنٹس مختص کیے جائیں اور بیوپاریوں کو ان مقامات پر منتقل کیا جائے تاکہ شہریوں کو آمدورفت میں پیش آنے والی مشکلات کا خاتمہ کیا جا سکے اور شہر میں نظم و ضبط قائم رکھا جا سکے۔
