جہلم: مبینہ پولیس مقابلے میں ملزم کی ہلاکت، آڈیو گفتگو نے نیا پنڈورا باکس کھول دیا

جہلم میں پولیس ملازم کو زخمی کرنے والا نوجوان قاسم پولیس حراست میں مبینہ مقابلے کے دوران ساتھیوں کی فائرنگ سے مبینہ طور پر جاں بحق ہونے کے معاملے پر لواحقین نے پولیس پر مخالفین سے ساز باز کرکے قتل کرنے کا الزام لگا دیا ہے۔ زخمی پولیس ملازم اور جاں بحق ہونے والے کی آڈیو گفتگو بھی منظرعام پر آگئی ہے، پوسٹمارٹم کےبعد لاش ورثا کے حوالے کر دی گئی ہے، لواحقین کا وزیراعلی پنجاب اور آئی جی پنجاب سے نوٹس لینے کا مطالبہ۔
تفصیلات کے مطابق جہلم کے علاقہ ٹاہلیانوالہ میں گزشتہ روز پولیس ملازم عمر جاوید نے قاسم نامی مسلح نوجوان کو پکڑنے کی کوشش کی جس کے نتیجہ میں کانسٹیبل عمر جاوید گولی لگنے سے زخمی ہوا تھا، اطلاع ملنے پر تھانہ صدر پولیس نے پہنچ کر پولیس ملازم کو ہسپتال جبکہ قاسم کو نامعلوم مقام پر منتقل کر دیا تھا اور دوسرے روز (جمعہ کو)پریس ریلیز جاری کی کہ قاسم مقابلے کے دوران ساتھیوں کی فائرنگ سے جاں بحق ہو گیا ہے۔
جاں بحق ہونے والے ملزم کو جمعرات کو اس وقت گرفتار کیا گیا تھا جب ملزم نے پولیس کانسٹیبل عمر جاوید کو مزاحمت کے دوران فائرنگ سے زخمی کیا تھا جس کی گرفتاری کی فوٹیج بھی منظر عام پر آچکی ہے۔
زخمی پولیس ملازم اور جاں بحق ہونے والے قاسم کی آڈیو گفتگو بھی منظرعام پر آگئی ہے، پولیس اہلکار قاسم کو منظر عام سے کچھ روز کے لیے غائب ہونے کا مشورہ دے رہا تھا۔
لاش پوسٹمارٹم کےبعد ورثا کے حوالے کر دی گئی جس کے بعد نوجوان قاسم کی نماز جنازہ ادا کر دی گئی۔
قاسم کے بھائی، دوست اور والدہ کا کہنا ہےکہ پولیس گزشتہ ایک سال سے ہمیں مخالفین سے مل کر قتل اور اقدام جیسے جھوٹے مقدمات درج کرکے تنگ کر رہی ہے، قاسم سے زخمی پولیس ملازم پیسے مانگتا تھا جس کی آڈیو بھی ہمارے پاس موجود ہیں۔
لواحقین نے وزیراعلی پنجاب مریم نواز شریف اور آئی جی پنجاب ڈاکٹر عثمان سے پر زور اپیل کی ہےکہ واقعہ کا نوٹس لےکر انصاف فراہم کیا جائے۔



