پنشن بہت بڑا بوجھ ہے، سروس اسٹرکچر میں تبدیلی کا امکان

جہلم: وفاقی حکومت نے کہا ہے کہ پنشن بہت بڑا بوجھ ہے ، وقت کے ساتھ ساتھ ہمیں سروس سٹرکچر میں تبدیلی کرنا ہو گی تاکہ پنشن کا خرچہ آہستہ آہستہ ہمارے قابو میں آئے۔پچھلے 10 ماہ سے ہمارے معاشی اہداف صحیح سمت میں جارہے ہیں۔

حکومت کا کہنا ہے کہ تجارتی خسارہ بالکل قابو میں ہے ، زرعی جی ڈی پی میں پانچ فیصد مثبت نمو ہے ، زر مبادلہ کے ذخائر 9 ارب ڈالر سے تجاوز کر چکے ہیں اور یہ 2 مہینے کی درآمدات کیلئے کافی ہیں کرنسی کی قدر مستحکم ہے۔ افراط زر بھی 38 فیصد سے کم ہو کر 17 فیصد پر آچکا ہے۔ سرکاری ملکیتی اداروں کے خسارے کم اور ان کی نجکاری کرنا ہے۔

حکومت کا کہنا ہے کہ ہم اپنے اخراجات کو بھی کم کررہے ہیں ، اس کا ایک طریقہ یہ ہے کہ ہم پبلک پرائیویٹ پارٹنر شپ کی طرف جائیں بہت بڑی ذمہ داری ہے ریٹائر منٹ کی عمر 60 سے 65 سال کرنے ، سروس سٹرکچر میں تبدیلی اور پنشن میں اصلاحات کرنے کی ضرورت ہے۔

حکومت کا مزید کہنا ہے کہ شرح سود میں کمی کا اختیارا سٹیٹ بینک کے پاس ہے۔ جون جولائی اور اگست میں پالیسی ریٹ نیچے آتاد کھائی دے رہا ہے۔ صرف تنخواہ دار طبقے پر سارے ٹیکسوں کا بوجھ نہیں ڈال سکتے۔ جو 10 ہزار موبائل کابل دے رہے ہیں وہ ٹیکس ریٹرن فائل کیوں نہیں کر سکتے۔ ملک خیرات سے نہیں ٹیکس سے چلتے ہیں۔

یاد رہے کہ آئی ایم ایف کا وفدا گلے ہفتے دس دن میں پاکستان آئے گا ،وفد سے نئے پروگرام کا حجم اور دورانیہ طے کیا جائے گا۔

Exit mobile version