آمدن سے زیادہ اثاثے اور جائیدادیں بنانے والے کرپٹ اہلکاروں کی سکریننگ کافیصلہ

جہلم شہر اور ضلع بھر کے سرکاری اداروں میں اپنی آمدن سے کہیں زیادہ اثاثے، جائیدادیں اور دولت جمع کرنے والے افسران و اہلکاروں کی سکریننگ کا فیصلہ کر لیا گیا ہے۔ خفیہ اداروں، سپیشل برانچ اور سکیورٹی برانچ کو اس سلسلے میں لازمی ذمہ داریاں سونپی گئی ہیں۔
ذرائع کے مطابق وفاقی اور صوبائی حکومتیں مختلف محکموں جیسے بلدیات، مال، ہائی وے، جنگلات، معدنیات، ماحولیات، انہار، فشریز، لیبر، سوشل ویلفیئر، واپڈا، پی ٹی سی ایل، سوئی گیس، پاسپورٹ، ای او بی آئی اور اوقاف کے کرپٹ و بدنام زمانہ افسران اور اہلکاروں کی آمدن سے زائد جائیدادوں اور اثاثوں کی خفیہ چھان بین شروع کر رہی ہیں۔
ذرائع نے بتایا کہ معمولی تنخواہوں اور مراعات کے باوجود لاکھوں اور کروڑوں روپے کے منقولہ و غیر منقولہ اثاثے، کوٹھیاں، بنگلے، محل نما مکانات، شاپنگ مالز، میرِج ہالز، سکول، کالجز اور اسپتال کلینک بنانے والے اہلکاروں کی سکریننگ اور ممکنہ گرفتاریوں کا آغاز جلد کیا جائے گا۔
علاوہ ازیں بیرون ملک خریدی گئی پراپرٹیز اور خفیہ اثاثے رکھنے والے بھی قانون کے شکنجے میں آئیں گے۔ متعلقہ اداروں کے مطابق اگلے چند روز میں اس سلسلے میں عملی اقدامات شروع کر دیے جائیں گے۔



