رواں ہفتے21 اشیائے ضروریہ مہنگی ہوگئیں، ادارہ شماریات

رواں مالی سال 2024-25کے کے دوسرے ماہ ملک میں ہفتہ وارمہنگائی کی شرح میں تسلسل کے ساتھ کمی کا رجحان جاری ہے تاہم مہنگائی کی شرح میں کمی کی رفتار بہت سست ہے ، حالیہ ہفتے ملک میں مہنگائی کی شرح میں 0 اعشاریہ 10 فیصد کمی واقع ہوئی ہے۔

وفاقی ادارہ شماریات کی جانب سے جاری کردہ مہنگائی کی ہفتہ وار رپورٹ کے مطابق حالیہ ہفتے سالانہ بنیادوں پر بھی مہنگائی کی شرح کم ہوکر 16 اعشاریہ 69 فیصد کی شرح پر آگئی ہے۔

اعدادوشمار کے مطابق حالیہ ہفتہ میں روزمرہ استعمال کی 21 اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں اضافہ اور 9 ضروری اشیا کی قیمتوں میں کمی جبکہ 21اشیا کی قیمتوں میں استحکام رہا ہے۔

حالیہ ہفتے آلو کی قیمت میں 2 اعشاریہ 41 فیصد،ایل پی جی 0 اعشاریہ 16فیصد، دال چنا6 اعشاریہ 05فیصد ، بیف کی قیمت میں 047 فیصد، سرسوں کے تیل کی قیمتوں میں 0 اعشاریہ 63 فیصد،ایل پی جی1 اعشاریہ 04 فیصد اورتازہ کھلا دودھ کی قیمتوں میں 0 اعشاریہ 39فیصداضافہ ہوا ہے۔

دوسری جانب چینی کی قیمت میں 1 اعشاریہ 43 فیصد، ٹماٹرکی قیمت میں 21 اعشاریہ 96 فیصد،پیاز1 اعشاریہ 70 فیصد، کیلے 2 اعشاریہ 08فیصد، دال مسورقیمت میں ایک فیصد، بریڈقیمت میں 0 اعشاریہ 61 فیصد اور آٹے کی قیمت میں 2 اعشاریہ 77فیصد کمی ہوئی ہے۔

اعدادوشمار میں بتایا گیا ہے کہ حالیہ ہفتے کے دوران حساس قیمتوں کے اعشاریہ کے لحاظ سے سالانہ بنیادوں پر 17 ہزار 732روپے ماہانہ تک آمدنی رکھنے والے طبقے کیلیے مہنگائی کی شرح0 اعشاریہ 24 فیصد کمی کے ساتھ 10 اعشاریہ 35فیصد اور 17 ہزار 733روپے سے 22 ہزار 888 روپے ماہانہ تک آمدنی رکھنے والے طبقے کیلیے مہنگائی کی شرح 0 اعشاریہ 22فیصدکمی کے ساتھ14 اعشاریہ 65فیصد ہوگئی۔

اسی طرح 22 ہزار 889روپے سے 29 ہزار 517 روپے ماہانہ تک آمدنی رکھنے والے طبقے کیلیے مہنگائی کی شرح0 اعشاریہ 15 فیصدکمی کے ساتھ 19 اعشاریہ 39 فیصد، 29 ہزار 518روپے سے 44ہزار 175 روپے ماہانہ تک آمدنی رکھنے والے طبقے کیلیے مہنگائی کی شرح01 اعشاریہ 12 فیصدکمی کے ساتھ 17 اعشاریہ 09فیصد رہی۔

اعدادوشمار کے مطابق 44 ہزار 176روپے ماہانہ سے زائد آمدنی رکھنے والے طبقے کیلیے مہنگائی کی شرح0 اعشاریہ 05 فیصد کمی کے ساتھ 15 اعشاریہ 71فیصد رہی۔

Exit mobile version