جہلم میں مہنگائی اور گراں فروشی بے قابو، اشیائے ضروریہ سرکاری نرخوں سے کہیں زیادہ قیمت پر فروخت

جہلم: ضلع جہلم میں مہنگائی اور گراں فروشی پر قابو نہ پایا جا سکا، جبکہ حالیہ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کے بعد اشیائے ضروریہ مزید مہنگی ہونے سے کم آمدن اور متوسط طبقہ شدید مالی مشکلات کا شکار ہو گیا ہے۔
شہریوں کے مطابق دودھ، دہی، روٹی، چاول، گھی، کوکنگ آئل، دالیں، گوشت، مرغی، انڈے اور دیگر اشیائے خورونوش سرکاری نرخوں سے کہیں زیادہ قیمت پر فروخت کی جا رہی ہیں۔ مارکیٹ میں چاول کی مختلف اقسام 320 روپے سے 640 روپے فی کلو تک فروخت ہو رہی ہیں، جبکہ گھی اور کوکنگ آئل کی قیمت 490 سے 610 روپے فی کلو تک پہنچ چکی ہے۔
عوام کا کہنا ہے کہ سرکاری نرخ نامے کے مطابق مرغی کے گوشت کی قیمت 500 روپے فی کلو مقرر ہے، تاہم بیشتر دکاندار تقریباً 800 گرام گوشت 530 سے 550 روپے میں فروخت کر رہے ہیں۔ اسی طرح برائلر مرغی بھی سرکاری نرخ سے 25 سے 30 روپے فی کلو زائد قیمت پر فروخت کیے جانے کی اطلاعات ہیں۔
شہریوں نے شکایت کی کہ بکرے کے گوشت کا سرکاری نرخ 1,800 روپے فی کلو ہونے کے باوجود مارکیٹ میں یہ 2,400 سے 2,800 روپے فی کلو فروخت کیا جا رہا ہے، جبکہ گائے کے گوشت کی سرکاری قیمت 900 روپے فی کلو مقرر ہونے کے باوجود قصاب 1,200 سے 1,250 روپے فی کلو وصول کر رہے ہیں۔
شہریوں کا کہنا ہے کہ روزمرہ استعمال کی بنیادی اشیاء کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ ان کے لیے زندگی گزارنا مشکل بنا رہا ہے۔
روٹی کی قیمتوں کے حوالے سے بھی شہریوں نے شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے بتایا کہ پنجاب حکومت کی جانب سے 100 گرام روٹی کی قیمت 14 روپے مقرر ہے، مگر ضلع جہلم میں 80 سے 90 گرام وزن کی روٹی 20 سے 25 روپے میں فروخت کی جا رہی ہے۔ اسی طرح دودھ کا سرکاری نرخ 200 روپے فی لیٹر ہونے کے باوجود مارکیٹ میں 220 سے 250 روپے فی لیٹر وصول کیے جا رہے ہیں، جبکہ چھوٹی بریڈ کا سرکاری نرخ 90 روپے مقرر ہونے کے باوجود بعض بیکریوں پر 100 سے 110 روپے میں فروخت کی جا رہی ہے۔
شہریوں کا کہنا ہے کہ مہنگائی اور گراں فروشی کے باعث گھریلو بجٹ بری طرح متاثر ہو چکا ہے اور کم آمدن والے افراد کے لیے بنیادی ضروریات پوری کرنا بھی دشوار ہوتا جا رہا ہے۔
شہریوں نے وزیراعلیٰ پنجاب محترمہ مریم نواز شریف، چیف سیکرٹری پنجاب اور ضلعی انتظامیہ سے مطالبہ کیا ہے کہ سرکاری نرخ نامے پر سختی سے عمل درآمد یقینی بنایا جائے، ناجائز منافع خوری اور من مانی قیمتیں وصول کرنے والوں کے خلاف مؤثر قانونی کارروائی کرتے ہوئے مقدمات درج کیے جائیں تاکہ عوام کو اشیائے خورونوش مقررہ نرخوں پر دستیاب ہو سکیں۔
نوٹ: خبر میں قیمتوں اور گراں فروشی سے متعلق معلومات مقامی شہریوں کی شکایات اور دعوؤں پر مبنی ہیں۔ متعلقہ ضلعی انتظامیہ یا متعلقہ حکام کا مؤقف سامنے آنے پر اسے بھی خبر میں شامل کیا جا سکتا ہے۔



