جہلم: چائلڈ لیبر کی خلاف ورزیاں عروج پر، 9 سے 12 سال کے بچوں سے 14 گھنٹے مشقت، مبینہ جنسی تشدد کی اطلاعات، شہریوں کا اعلیٰ حکام سے نوٹس لینے کا مطالبہ۔
تفصیلات کے مطابق ضلع جہلم میں چائلڈ لیبر کے قوانین کی کھلے عام خلاف ورزیاں جاری ہیں، جہاں 9 سے 12 سال کے کمسن بچوں سے 12 سے 14 گھنٹے جبری مشقت لینے کے واقعات سامنے آئے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ بچوں پر مبینہ جنسی تشدد کی اطلاعات نے بھی شہریوں کو شدید تشویش میں مبتلا کر دیا ہے۔
ذرائع کے مطابق شہر اور گردونواح میں ہوٹلوں، ورکشاپس، دکانوں اور مختلف صنعتی یونٹس پر چھوٹے بچوں سے نہ صرف طویل اوقات میں کام لیا جا رہا ہے بلکہ انہیں انتہائی کم اجرت دی جاتی ہے۔ چائلڈ لیبر ایکٹ کی صریح خلاف ورزی کے باوجود محکمہ لیبر کے افسران محض کاغذی کارروائیوں اور سب اچھا کی رپورٹوں تک محدود ہیں، جبکہ زمینی حقائق اس کے برعکس ہیں۔
مزدور رہنماؤں نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے الزام عائد کیا کہ محکمہ لیبر کے بعض افسران کی مبینہ سرپرستی میں چائلڈ لیبر کا سلسلہ جاری ہے، جس سے بچوں کا مستقبل تباہ ہو رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کم آمدنی اور غربت کے باعث والدین اپنے معصوم بچوں کو تعلیم سے محروم کر کے کام پر بھیجنے پر مجبور ہیں، جو معاشرتی و اخلاقی زوال کا منہ بولتا ثبوت ہے۔
شہریوں اور سماجی حلقوں نے وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف، چیف سیکرٹری پنجاب، سیکرٹری لیبر اور صوبائی محتسب سے فوری نوٹس لینے، چائلڈ لیبر کے خلاف سخت کارروائی اور معصوم بچوں کے تحفظ کو یقینی بنانے کا مطالبہ کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر فوری اقدامات نہ کیے گئے تو آنے والی نسلوں کا مستقبل شدید خطرات سے دوچار ہو جائے گا۔
