ریسکیو 1122 جہلم کی ماہ مارچ کی کارکردگی رپورٹ جاری، 1577 افراد کو ریسکیو کیا گیا

جہلم: ریسکیو 1122 نے ماہ مارچ میں 7 اعشاریہ 5 منٹ کے ایوریج رسپانس ٹائم سے 1577 افراد کو ریسکیو کیا۔ ماہ مارچ میں ریسکیو 1122 کی ہیلپ لائن (مدد گار نمبر)پر 7410 کالز موصول ہوئیں،جن میں سے 1612 ایمرجنسی کالز تھیں۔ ماہ مارچ میں 286 روڈ ٹریفک کے حادثات ہوئے، ماہ مارچ میں 58 افراد مختلف ایمرجنسی میں جان کی بازی ہار گئے۔
ڈسٹرکٹ ایمرجنسی آفیسر ریسکیو 1122 انجینئر سعید احمد کی صدرات میں ایک اجلاس ہوا جس میں ریسکیو 1122 کی ماہانہ کارکردگی کا جائزہ لیا گیا۔ریسکیو1122 جہلم نے بروقت رسپانس کرتے ہوئے مجموعی طور پر 1577 لوگوں کو ریسکیو کیا اور ابتدائی طبی امداد فراہم کرنے کے بعد 1153 مریضوں کو ہسپتال منتقل کیا۔
ماہ مارچ میں 7410 کالز موصول ہوئی جن میں 1612 ایمرجنسیز کالز پر بروقت ریسپانس کیا گیا۔ جن 1612 ایمرجنسیز کالز پر رسپانس کیا ان میں روڈ ٹریفک ایکسڈینٹ کی تعداد 286 تھی، میڈیکل ایمرجنسیز کی تعداد 1086 تھیں، آگ لگنے کا واقعات 27ہوئے،کرائم 22،ڈوبنے کا واقعہ 01اور متفرق ایمرجنسیز کی تعداد 190 رہی۔
ریسکیو 1122نے ماہ مارچ میں بھی بہتر رسپانس ٹائم کی روایت کو برقرار رکھا ایوریج رسپانس ٹائم 7 اعشاریہ 5 منٹ رہا اور فائر ایمرجنسیز کا ایوریج رسپانس ٹائم 7 اعشاریہ 3 منٹ رہا۔ پنجاب کمیونٹی سیفٹی ایکٹ کے تحت ضلع کی تمام بلند عمارات جن کی اونچائی 50 فٹ ہے کو چیک کیا گیا اور بلڈنگ سیفٹی کے قوانین کو لاگو کروانے کے لیے ہدایات دی گئیں۔ کمیونٹی سیفٹی پروگرام کے تحت محفوظ معاشرے کے قیام کے لیے ریسکیو کی جانب سے ماہ مارچ میں مختلف سکولز، کالجز اور اداروں میں فرسٹ ایڈ اور فائر سیفٹی کی ٹریننگ کا انعقاد بھی کیا گیا۔
علاوہ ازیں پیشنٹ ٹرانسفر سروس کے تحت مریضوں کو بہتر طبی سہولیات فراہم کرنے کے لئے ضلع جہلم سے کل 147 مریضوں کو راولپنڈی، اسلام آباد اور سرگودھا کے ہسپتالوں میں منتقل کیا۔
ڈسٹرکٹ ایمرجنسی آفیسر نے پورے ماہ میں ریسکیورز کی کارکردگی کو حوصلہ افزاء قرار دیا اور ان کا کہنا تھا کہ ریسکیو1122 کا ادارہ کسی بھی ایمرجنسی یا سانحہ سے نمٹنے کے لئے ہر وقت تیار ہے۔ ریسکیو1122 عوام کا ادارہ ہے اور ہم عوام کی فلاح کے لئے کام جاری رکھیں گے۔ ہمارا مقصد عوام میں احساس تحفظ پیدا کرنا ہے۔
انہوں نے کہا کہ پنجاب کمیونٹی سیفٹی ایکٹ کے تحت ضلع کی تمام بلند عمارات میں کمیونٹی سیفٹی ریگولیشن پر عمل درآمد کروایا جا رہا ہے۔



