جہلم: ماہ رمضان کے دوسرے عشرے میں بھی مہنگائی کا سونامی قابو نہ ہوسکا

جہلم: ماہ رمضان کے دوسرے عشرے میں بھی مہنگائی کا سونامی قابو نہ ہوسکا۔ تمام اشیاء 30 سے50 فیصد مہنگی فروخت ہونے لگیں۔ بازار میں مرغی کاگوشت 626 روپے کی بجائے 650 روپے کلو، انڈے 274 روپے در جن، دال چنا موٹی240 کی بجائے 300 روپے، بیسن240 کی بجائے 275 روپے فی کلو میں فروخت، پرائس کنٹرول مجسٹریٹس تا حال نوٹس لینے سے عاری، گرانی کی مانیٹرنگ میں انتظامیہ مکمل طور پر ناکام ، شہری سراپا احتجاج ہیں۔
تفصیلات کے مطابق رمضان المبارک کے دوسرے عشرے میں تمام اشیائے خوردونوش اور اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں 30سے 50 فیصد کا اضافہ کردیا گیا۔ دالیں، چاول، بیسن ،گھی، آئل، کھجور کی قیمتوں میں زیادہ اضافہ کیا گیا ہے جس سے شہریوں کی چیخیں نکل رہی ہیں، سستے رمضان بازار میں بھی اشیاء سبزیاں پھل ناقص وغیر معیاری فروخت ہورہے ہیں ۔
بازارمیں مرغی کاگوشت 626 روپے فی کلو کی بجائے 750 گرام دیاجارہا ہے، انڈے 274 روپے در جن، چھوٹا گوشت 1400 روپے فی کلو کی بجائے 1800 روپے ہڈی چربی سمیت فروخت کیا جارہاہے ۔گائے کا گوشت جن کی سرکاری قیمت 700 روپے مقررہے قصاب 900 روپے ہڈی چربی سمیت فروخت کررہے ہیں ۔
دودھ 160 روپے فی لیٹر کی بجائے 190 روپے فی لیٹر فروخت کررہے ہیں ۔ دہی 180 روپے کی بجائے 200 روپے فی کلو، روٹی20 روپے کی بجائے 25 روپے، دال چناموٹی 240 کی بجائے300 روپے، بیسن 240 کی بجائے275 روپے کلو، کھجور 700 کی بجائے 900 روپے فی کلو، دال مسور 290 کی بجائے 320 روپے فی کلو فروخت کی جارہی ہے۔
سفید چنے باریک 290 روپے کی بجائے 350 روپے فی کلو، چاول باسمتی سپر290 کی بجائے 350 روپے کلو، آلوکچا 53 روپے کی بجائے 70 روپے فی کلو، پیاز180 روپے کی بجائے 250 روپے فی کلو، لہسن چائنہ 590 کی بجائے 650 روپے، ٹماٹر 115 کی بجائے 150 روپے کلو، ادرک تھائی 500 کی بجائے 550 روپے، مرچ سبز130 کی بجائے 150 روپے فروخت کی جارہی ہے۔
لیموں 110 روپے کی بجائے 200 روپے فی کلو، کریلا 260 روپے کی بجائے 300 روپے، بھنڈی370 روپے کی بجائے 420 روپے ، مٹر85 روپے کی بجائے 150 روپے کلو، پھول گوبھی 110 کی بجائے 150 روپے، بند گوبھی 90 روپے کی بجائے 120 روپے، کھیرافارمی 60 روپے کی بجائے 100 روپے، مولی18 روپے کی بجائے 30 روپے، گاجر 52 روپے کی بجائے 90 روپے فروخت کی جارہی ہے۔
سیب کالا کولو 325 کی بجائے 400 روپے فی کلو، انارقندھاری 430 کی بجائے 350 روپے کلو، امرود 220 کی بجائے 250روپے ، کینو160 کی بجائے 250 روپے فی درجن ، در جن کیلا 185 کی بجائے 250 روپے در جن، سٹابری 310 روپے کی بجائے 500 روپے فی کلو فروخت کی جارہی ہے، پرائس کنٹرول مجسٹریٹس تا حال گراں فروشوں کے خلاف کارروائیاں کرنے گریزاں ہیں ۔
شہریوں نے چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ ، وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف سے مطالبہ کیا ہے کہ ضلعی افسران کو روزانہ کی بنیاد پر اپنی موجودگی میں سبزی و فروٹ منڈیوں میں بولیاں کروانے کا پابند بنایا جائے جبکہ پرائس کنٹرول مجسٹریٹس بازاروں کے ساتھ ساتھ سبزی منڈیوں میں موجود دکانداروں کے خلاف فوجداری مقدمات درج کرنے کاپابند بنایا جائے تاکہ مصنوعی مہنگائی کا خاتمہ ممکن ہو سکے ۔



