جہلم میں گراں فروشی عروج پر، پرائس کنٹرول مجسٹریٹس ناکام

جہلم شہر سمیت ضلع بھر میں مصنوعی مہنگائی نے شہریوں کی مشکلات میں اضافہ کر دیا ہے، جبکہ پرائس کنٹرول مجسٹریٹس گراں فروشی پر قابو پانے میں ناکام دکھائی دے رہے ہیں۔
دکانداروں نے از خود اشیائے خوردونوش کی قیمتیں مقرر کر لی ہیں۔ ایل پی جی گھریلو سلنڈر کی قیمت 6000 روپے تک پہنچ گئی ہے، جبکہ دودھ فروش سرکاری نرخ 180 روپے فی لٹر کے بجائے 220 روپے فی لٹر فروخت کر رہے ہیں۔ اسی طرح قصابوں نے بھی من مانے نرخ مقرر کر کے گوشت مہنگے داموں فروخت کرنا شروع کر دیا ہے۔
شہریوں کا کہنا ہے کہ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کو جواز بنا کر دکانداروں نے اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں ہوشربا اضافہ کر دیا ہے، جبکہ ضلعی انتظامیہ اور پرائس کنٹرول مجسٹریٹس اس صورتحال پر خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں۔
مضافاتی علاقوں میں صورتحال مزید خراب ہے جہاں دکاندار کھلے عام من مانی کرتے ہوئے "جنگل کا قانون” نافذ کیے ہوئے ہیں۔
شہریوں نے میر رضا اوزگن سے مطالبہ کیا ہے کہ فوری نوٹس لے کر گراں فروشی میں ملوث دکانداروں کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے اور فوجداری مقدمات درج کیے جائیں تاکہ عوام کو ریلیف فراہم کیا جا سکے۔



