بینک کی غلطی سے آپ کے اکاؤنٹ میں منتقل ہونے والی رقم آپ استعمال کرسکتے ہیں مگر کیسے؟ معروف وکیل نے بتادیا

بینک کے عملے کی طرف سے غلطی سے آپ کے اکاؤنٹ میں رقم منتقل کر دی جائے تو کیا آپ اسے واپس کرنے کے پابند ہوں گے؟

ایک برطانوی شہری نے کنزیومر رائٹس کے معروف وکیل ڈین ڈنہم سے یہ سوال پوچھا تو انہوں نے جواب دیا کہ 180سال سے برطانوی عدالت اس روایت پر کاربند ہیں کہ وہ غلطی سے بینک اکاؤنٹ میں آنے والی رقم واپس کرنے کا حکم دیتی ہیں۔

برطانوی ویب سائٹ ’دِس از منی‘ (This is Money)کے مطابق ڈین ڈنہم کا کہنا تھا کہ اگرچہ یہ عام قانون ہے کہ آپ غلطی سے اپنے بینک اکاؤنٹ میں آنے والی رقم نہیں رکھ سکتے تاہم دو ایسے استثنیٰ ہیں، جنہیں آپ رقم استعمال کر لینے کی صورت میں عدالت میں اپنے دفاع میں پیش کر سکتے ہیں۔ یہ استثنیٰ ’Change of position‘ اور ’ good consideration‘ کہلاتے ہیں۔

ان دونوں صورتوں میں آپ کو ثابت کرنا ہو گا کہ آپ نے اچھی نیت کے ساتھ اپنی پوزیشن تبدیل کی ہے اور اب آپ سے رقم کی واپسی کا مطالبہ ناانصافی پر مبنی ہے۔ محض رقم خرچ کر لینا ایسا عذر نہیں ہے کہ آپ کو اس کی واپس ادائیگی نہ کرنی پڑے۔ تاہم یہ دونوں استثنیٰ بھی شاذونادر ہی کسی شخص کو رقم واپس کرنے سے بچا پاتے ہیں۔

اگر اضافی رقم آپ کے آفس کی طرف سے آپ کے اکاؤنٹ میں آئی ہے اور آفس کے ذمہ آپ کے کچھ واجبات واجب الادا ہیں، اس صورت میں آپ رقم واپس کرنے سے بچ سکتے ہیں۔

یہ بھی پڑھنا مت بھولیں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button