ایس ایچ او تھانہ سول لائن کا رویہ متنازع، مذہبی شخصیت کو فون پر بدتمیزی اور غیر قانونی مقدمات کی دھمکیاں

جہلم: تھانہ سول لائن جہلم کے ایس ایچ او کے رویے سے متعلق ایک نیا تنازع سامنے آ گیا ہے، جس کے باعث شہری حلقوں میں شدید تشویش اور اضطراب پایا جا رہا ہے۔

تازہ ترین اطلاعات کے مطابق مرکزی سنی علماء کونسل جہلم کے قانونی معاون سید خلیل حسین کاظمی نے تھانہ سول لائن کے ایس ایچ او راجہ نوید پر فون پر بدتمیزی، غیر شائستہ زبان کے استعمال اور غیر قانونی مقدمات درج کرنے کی دھمکیاں دینے کے سنگین الزامات عائد کیے ہیں۔

سید خلیل حسین کاظمی نے میڈیا سے گفتگو اور پریس کانفرنس کے دوران بتایا کہ ایس ایچ او تھانہ سول لائن نے انہیں فون کر کے نہایت ہتک آمیز لہجہ اختیار کیا۔ ان کے مطابق حکمِ امتناعی کے باوجود ایک متنازع پلاٹ پر دیوار تعمیر کروائی گئی اور جب اس حوالے سے قانونی مؤقف اختیار کیا گیا تو پولیس افسر کی جانب سے سخت اور غیر شائستہ زبان استعمال کی گئی۔

سید خلیل کاظمی کا کہنا تھا کہ انہیں غیر قانونی مقدمات میں ملوث کرنے کی دھمکیاں بھی دی گئیں، جو اختیارات کے ناجائز استعمال کے مترادف ہے۔

قانونی معاون کے مطابق اس واقعے کے بعد مرکزی سنی علماء کونسل کے عہدیداران اور مختلف سماجی و شہری حلقوں میں شدید غم و غصہ پایا جاتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایک ذمہ دار پولیس افسر سے اس طرح کے رویے کی توقع نہیں کی جا سکتی، اور اگر قانون کے رکھوالے ہی دباؤ اور دھمکیوں کی زبان استعمال کریں گے تو عام شہری انصاف کے لیے کس دروازے پر دستک دے گا۔

سید خلیل حسین کاظمی نے اس معاملے پر ڈی پی او جہلم طارق عزیز سندھو کو باقاعدہ تحریری درخواست دائر کر دی ہے، جس میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ واقعے کا فوری نوٹس لیا جائے، شفاف اور غیر جانبدار انکوائری کروائی جائے، اور اگر الزامات درست ثابت ہوں تو متعلقہ ایس ایچ او کے خلاف سخت محکمانہ کارروائی عمل میں لائی جائے۔

دوسری جانب ایس ایچ او تھانہ سول لائن راجہ نوید نے الزامات کی تردید کرتے ہوئے موقف اختیار کیا ہے کہ انہوں نے نہ تو کوئی غیر قانونی کام کروایا ہے اور نہ ہی کسی کے ساتھ غیر شائستہ گفتگو کی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ان پر لگائے گئے الزامات بے بنیاد ہیں۔

تاہم شہری اور سماجی حلقوں کا کہنا ہے کہ اس معاملے کی غیر جانبدارانہ تحقیقات ناگزیر ہیں تاکہ حقائق سامنے آ سکیں اور پولیس و عوام کے درمیان اعتماد کی فضا کو بحال کیا جا سکے۔ شہریوں نے بھی مطالبہ کیا ہے کہ قانون کی بالادستی اور شفافیت کو یقینی بنانے کے لیے ایسے معاملات میں فوری اور واضح کارروائی کی جائے۔

یہ بھی پڑھنا مت بھولیں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button