مہنگائی نے پھر سر اٹھا لیا، نگراں حکومت کے اندازے غلط، ماہانہ شرح 29 اعشاریہ 7 ریکارڈ

ضلع جہلم سمیت ملک میں مہنگائی کی شرح 30 اعشاریہ 9 فیصد پر پہنچ گئی، جب کہ ایک ماہ میں اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں مزید اضافہ ہوگیا۔

وفاقی ادارہ شماریات نے مہنگائی کے اعداد و شمار جاری کردیے ہیں، جس کے مطابق دسمبرمیں مہنگائی کی شرح میں 0 اعشاریہ 82 فیصد کا اضافہ ہوا، اور 6 ماہ میں مہنگائی کی اوسط شرح 28 اعشاریہ 79 فیصد ریکارڈ کی گئی۔

ادارہ شماریات کے اعداد و شمار کے مطابق ماہ دسمبر میں مہنگائی کی شرح 29 اعشاریہ 66 فیصد تک رہی، ایک ماہ میں شہری علاقوں میں مہنگائی کی شرح میں 0 اعشاریہ 73 فیصد اور دیہی علاقوں میں مہنگائی کی شرح میں 0 اعشاریہ 96 فیصد کا اضافہ ہوا۔

رپورٹ کے مطابق شہری علاقوں میں مہنگائی کی شرح 30 اعشاریہ 9 فیصد ریکارڈ کی گئی، جب کہ دیہی علاقوں میں 27 اعشاریہ 9 فیصد ریکارڈ کی گئی۔

جولائی 2018 سے اگست 2023 تک مہنگائی کا چارٹ

ادارہ شماریات نے اپنی رپورٹ میں بتایا کہ ملک میں ایک سال میں تازہ سبزی کی قیمت میں 65 اعشاریہ 4 فیصد اضافہ ریکارڈ ہوا، آٹا 59 فیصد تک اور چینی کی قیمت میں 49 فیصد اضافہ ہوا، جب کہ چاول 45 اعشاریہ 6 فیصد اور دال ماش 43 اعشاریہ 70 فیصد مہنگی ہوئی۔

اعداد و شمار کے مطابق ایک سال میں چائے کی قیمت میں37 اعشاریہ 7 فیصد اور تازہ دودھ 21 اعشاریہ 7 فیصد مہنگا ہوا، جب کہ انڈے ایک سال میں 26 اعشاریہ 76 فیصد مہنگے ہوئے۔

ادارہ شماریات کے مطابق ایک ماہ میں پیاز کی قیمت میں 30 اعشاریہ 83 فیصد کا اضافہ ہوا، اور اس دوران ڈرائی فروٹس 5 اعشاریہ 16 فیصد مہنگے ہوئے، ایک ماہ میں دال مسور کی قیمت میں 5 اعشاریہ 05فیصد کا اضافہ ہوا، اور انڈے ایک ماہ میں 4 اعشاریہ 73 فیصد مہنگے ہوئے۔

یہ بھی پڑھنا مت بھولیں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button