امت مسلمہ باہمی اختلافات ختم کرکے اتحاد و وحدت قائم کرے، مرکزی علماء کونسل جہلم

جہلم: مرکزی علماء کونسل ضلع جہلم کے علماء کرام نے نمازِ جمعہ کے اجتماعات سے خطاب کرتے ہوئے پولیس لائنز کوہاٹ میں نمازِ جمعہ کے اجتماع پر ہونے والے دہشت گرد حملے کی شدید مذمت کی اور کہا ہے کہ امتِ مسلمہ کو اپنے باہمی اختلافات ختم کرکے اتحاد و وحدت قائم کرنا ہوگی۔

علماء کرام نے کہا کہ سعودی عرب اور حرمین الشریفین کے دفاع کے لیے امتِ مسلمہ ہر قسم کی قربانی دینے کے لیے تیار ہے۔ مکہ مکرمہ کو نشانہ بنانے کی کوشش ناقابلِ برداشت ہے، جبکہ پوری پاکستانی قوم سعودی عرب کے ساتھ شانہ بشانہ کھڑی ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ پاکستان میں موجود تمام سیاسی جماعتیں بھی سعودی عرب اور حرمین الشریفین کے دفاع اور تحفظ کے لیے اپنا کردار ادا کریں۔

انہوں نے کہا کہ خانہ کعبہ اور مدینہ منورہ کا تحفظ امتِ مسلمہ کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ حکومتِ پاکستان حرمین الشریفین کے دفاع کے لیے اپنی افواج سعودی عرب بھیجے اور مکہ ڈیفنس معاہدے پر مکمل عملدرآمد یقینی بنایا جائے۔

علماء کرام نے کہا کہ حرمین الشریفین پر حملے کی کوشش پوری ملتِ اسلامیہ پر حملہ تصور کی جائے گی۔ انہوں نے سعودی عرب سے اپیل کی کہ وہ اسلامی ممالک کے باہمی اتحاد کو مضبوط بنائے اور امتِ مسلمہ کو مشترکہ حکمتِ عملی کے ذریعے درپیش چیلنجز کا مقابلہ کرنا چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ امتِ مسلمہ کو انتشار کے بجائے وحدت، باہمی احترام اور مشترکہ لائحہ عمل کو فروغ دینا ہوگا۔ عالمِ اسلام کے مسائل کے حل کے لیے اسلامی ممالک کے درمیان تعاون اور اتحاد وقت کی اہم ضرورت ہے۔

علماء کرام نے مزید کہا کہ مکہ ڈیفنس معاہدہ کسی ملک کے خلاف نہیں بلکہ حرمین الشریفین کے دفاع اور علاقائی استحکام کے لیے ہے۔ پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کو اس اتحاد کو مزید وسیع کرنے اور تحفظِ حرمین الشریفین سمیت فلسطین کے معاملے پر بھی مشترکہ آواز بلند کرنے کے لیے اقدامات کرنے چاہئیں۔

مرکزی علماء کونسل ضلع جہلم کے علماء کرام نے کہا کہ پاکستانی قوم سعودی عوام اور حکومتِ سعودی عرب کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کرتی ہے اور حرمین الشریفین کی حرمت و تقدس کے تحفظ کے لیے امتِ مسلمہ کے اتحاد کو ناگزیر قرار دیا۔

یہ بھی پڑھنا مت بھولیں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button