پنڈدادنخان میں پولیس بیوہ کی 30 بکریاں اور 28 گائے لے گئے، خاتون حصول انصاف کیلئے دربدر
پنڈدادنخان: تھانہ پنڈدادنخان کے علاقہ ساؤوال کے رہائشی محمد ظہور ولد محمد زمان کی بیوی (ر) حصولِ انصاف کے لئے دربدر، اپنی آواز ارباب ِ اختیار تک پہنچانے کے لئے پریس کلب پہنچ گئی۔
متاثرہ خاتون نے اخبار نویسوں سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ پولیس چوک دھریالہ جالپ کے انچارج سب انسپکٹر بابر اے ایس آئی مشتاق اور کانسٹیبل راجہ غیاث نے 5 جنوری کو ہمارے ڈیرے پر داخل ہوکر 30 بکریاں بچوں سمیت گاڑی میں لوڈ کر لیں اور الزام عائد کیا کہ محمد ظہور نے چوری کی بکریاں رکھی ہوئی ہیں۔
قابلِ ذکر بات یہ ہے کہ پولیس چوکی دھریالہ جالپ نے بکریاں ہضم کرنے کے لئے 9 جنوری کو فرضی مدعی بنا کر میرے خاوند کے خلاف بکریاں چوری کرنے کا مقدمہ درج کیا۔
متاثرہ خاتون نے بتایا کہ اس طرح دھریالہ جالپ پولیس والوں نے تھانہ سوہاوہ پولیس والوں کے ساتھ مل کر ہمارے ڈیرے پر چھاپہ مارا اور تھانہ سوہاوہ پولیس کے اے ایس آئی جاوید ، اے ایس آئی افضال نے ٹرکوں میں ہماری 28 گائے جن کی مالیت لاکھوں روپے بنتی ہے لوڈ کر لیں اور بتایا کہ یہ سارے مویشی چوری کے ہیں ، اس طرح پولیس نے میرے خاوند کو تھانہ سوہاوہ منتقل کردیا۔
انہوں نے بتایا کہ قابل زکر بات یہ ہے کہ دھریالہ پولیس چوکی والوں نے جن لوگوں کو بکریاں چوری کے مقدمے میں مدعی بنایا تھا انہوں نے کہا کہ یہ بکریاں ہماری نہیں ہے ، اس دوران پولیس چوکی دھریالہ جالپ والے ہمارے ساتھ مک مکا کی کوشش کرتے رہے لیکن ہم نے پیسے دینے سے انکار کیا ، ہمیں نہیں معلوم کہ دھریالہ پولیس چوکی والوں نے ہماری بکریاں کہاں غائب کی ہیں۔
متاثرہ خاتون نے بتایا کہ اسی طرح تھانہ سوہاوہ پولیس جو گائے ہمار ے ڈیرے سے لوڈ کرکے سوہاوہ لائے تھے ان کا بھی کوئی ٹھکانہ معلوم نہیں کہ سوہاوہ پولیس نے ہماری قیمتی گائے کہاں غائب کی ہیں ، اپنی آرزو لیکر ڈی ایس پی پنڈدادنخان کے دفتر گئے تو وہاں پر موجود نائب محرر نے کہا کہ یہاں آپ کو انصاف نہیں ملے گا، آپ ڈی پی او دفتر جہلم جائیں جب ہم لوگ ڈی پی دفتر آئے تو ہماری کسی نے فریاد نہیں سنی۔
متاثرہ خاتون نے وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز، آئی جی پنجاب، آرپی او راولپنڈی، ڈی پی او جہلم سے مطالبہ کیاہے کہ ہمیں انصاف مہیا کیاجائے ہمارے لاکھوں روپے مالیتی جانور پولیس والوں سے واپس دلوائے جائیں تاکہ ہم روٹی روزی کا سلسلہ جاری رکھ سکیں۔
موقف جاننے کے لئے پی آر او جہلم سے بذریعہ ٹیلیفون رابطہ قائم کرنے کی کوشش کی گئی لیکن ان کا فون اٹینڈ نہ ہوسکا۔ اگرو ہ اپنا موقف دینا چاہیں تو ان کا موقف من و عن شائع کیاجائے گا۔



