ضلع جہلم میں گندم کی کٹائی شروع، نرخ انتہائی کم ہونے کے باعث کاشتکار شدید مایوسی کا شکار

جہلم: ضلع جہلم سمیت پنجاب بھر میں گندم کی کٹائی کا سیزن شروع ہو چکا ہے، تاہم امدادی قیمت مقرر نہ ہونے اور اوپن مارکیٹ میں گندم کے فی من نرخ انتہائی کم ہونے کے باعث کاشتکار شدید مایوسی کا شکار ہیں۔ کسانوں نے مطالبہ کیا ہے کہ حکومت فوری طور پر گندم کی سرکاری قیمت کا اعلان کرے تاکہ انہیں مزید معاشی نقصان سے بچایا جا سکے۔
کسان رہنما مرزا قدیر بیگ نے صحافیوں سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ حالات میں گندم کی جو قیمت کاشتکاروں کو اوپن مارکیٹ میں مل رہی ہے، وہ ان کے پیداواری اخراجات کو بھی پورا نہیں کر پا رہی۔ انہوں نے کہا کہ کسانوں نے مہنگی کھاد، زرعی ادویات، ڈیزل اور دیگر اخراجات برداشت کرتے ہوئے فصل تیار کی، لیکن اب انہیں اپنی محنت کا صلہ نہ ملنے کے برابر ہے۔
مرزا قدیر بیگ نے کہا کہ کسان چھ ماہ تک گندم کی دیکھ بھال میں اپنی نیندیں اور آرام قربان کرتے ہیں، لیکن اگر فصل بیچنے پر ان کا نقصان ہو رہا ہو، تو وہ گندم کو کاٹنے کی بجائے مویشیوں کو بطور چارہ استعمال کرنا زیادہ بہتر سمجھتے ہیں۔
انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ گندم کی امدادی قیمت کے تعین کے سلسلے میں کسانوں سے مشاورت کرے اور جلد از جلد سرکاری سطح پر نرخوں کا اعلان کرے تاکہ کسانوں کو ذہنی اور مالی اذیت سے نجات دلائی جا سکے۔
کسان رہنما نے مزید کہا کہ زراعت ملکی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی ہے اور اگر کسان کو اس کے جائز حقوق نہ دیے گئے تو یہ شعبہ زوال کا شکار ہو جائے گا جس کا اثر پورے ملک پر پڑے گا۔



