جہلم: مہنگائی کی دہائی، پرائس کنٹرول مجسٹریٹس کی کارکردگی سوالیہ نشان، سرکاری نرخ نامے مذاق بن گئے ، دوکانداروں نے لوٹ مار کا بازار گرم کر رکھا ہے۔
انتظامیہ آفیسران اور پرائس کنٹرول مجسٹریٹس کی مبینہ ناقص کارکردگی کی وجہ سے شہر کے دوکانداروں نے روازنہ کی بنیاد پر جاری ہونے والی سرکاری ریٹ لسٹ کو خاطر میں نہ لاتے ہوئے پھلوں، سبزیوں اور دیگر اشیاء ضروریات زندگی کے خود ساختہ ریٹس مقرر کرتے ہوئے بلا خوف و خطر لوٹ مار کا بازار گرم کر رکھا ہے۔
اگر کوئی صارف سرکاری نرخوں پر روٹی،نان ،دودھ ،دہی،مرغی کا گوشت، پھل اور سبزیاں خرید کرنے پر اصرار کرے تو لالچی اور ہوس کے شکار دوکاندار اسے بے عزت کرنے سے بھی گریز نہیں کرتے اور اس دوران وہ مرد و زن میں تمیز کرنا بھی بھول جاتے ہیں جبکہ لوٹ مار کا بازار گرم ہونے کا علم ہونے پر بھی انتظامیہ کے آفسران اور پرائس کنٹرول مجسٹریٹس کا خود ساختہ مہنگائی کے شکار شہریوں کو لٹنے سے بچانے کے لئے حرکت میں نہ آنا گہرا سوالیہ نشان ہے۔
مہنگائی سے تنگ افراد کا کہنا ہے کہ بجلی کے بل اسقدر زیادہ ہیں کہ محدود وسائل میں گھروں کا چولہا جلانا مشکل ہو چکا جبکہ حکومت اپنی شاہ خرچیاں کم کرنے کو تیار نہیں اور آئی ایم ایف سے حاصل کئے گئے تمام قرضوں کا بوجھ بھی ملک کی غریب عوام پر ڈال دیا گیا۔ اگر حکومت نے مہنگائی اور بجلی و سوئی گیس کے بلوں کو کم کرنے کے لئے عملی اقدامات نہ اٹھائے تو حکومت کو سخت عوامی ردعمل کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
