ضلع جہلم میں اتائی ڈاکٹروں کی بھرمار، انسانی زندگیوں سے کھیلنے لگے

جہلم: ڈرگ انسپکٹرز کی غفلت، ضلع کی چاروں تحصیلوں میں جعلی مسیحاؤں کی بھرمار، انسانی زندگیاں خطرات سے دو چار ہیں۔

ڈرگ انسپکٹرز کی مبینہ غفلت و لاپرواہی سے جہلم کی چاروں تحصیلوں کے شہری اور دیہی علاقوں میں روز بروز بڑھتی ہوئی عطائیت کی تعداد سے انسانی زندگیاں خطرات میں گھری جارہی ہیں۔ اتائی بغیر تشخیص کے ادویات تجویز کر کے متعدد افراد کی زندگیوں کے چراغ گل کررہے ہیں۔

شہریوں نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ اتائیوں کی اکثریت مڈل پاس بھی نہیں جبکہ سادہ لوح لوگ ان کو ” ڈاکٹر صاحب ” پکار کر کوالیفائیڈ ڈاکٹروں کی بھی توہین کرتے دکھائی دیتے ہیں ۔

شہریوں کا کہنا ہے کہ اتائیت کا خاتمہ کرنے کے دعوئے ہر دور حکومت میں کئے گئے مگر عملی اقدامات کہیں نظر نہیں آئے۔ بعض علاقوں میں عطائی نشہ آور انجیکشنز ، سیرپ فروخت کر کے نوجوان نسل کو تباہ کرنے میں اپنا گھناؤنا کردار ادا کر رہے ہیں۔ اتائیت کی بڑھتی ہوئی تعداد پر پنجاب ہیلتھ کیئر کمیشن اور ڈرگ انسپکٹرز کی خاموشی سمجھ سے بالاتر ہے۔

ضلع بھر کے شہریوں نے ارباب اختیار سے پر زور مطالبہ کیا ہے کہ جعلی ڈاکٹروں اور حکیموں کے خلاف کارروائیاں نہ کرنے والے ڈرگ انسپکٹرز کو ضلع بدر کیا جائے فرض شناس اور ایماندار ڈرگ انسپکٹرز کو تعینات کیا جائے تاکہ انسانی زندگیوں سے کھیلنے والے اتائی ڈاکٹرز کے اڈے بند ہوسکیں ۔

یہ بھی پڑھنا مت بھولیں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button