دینہ: پٹرولیم مصنوعات میں کمی کے باوجود بھی رکشہ ڈرائیوروں نے ابھی تک کرائے کم نہ کئے، رکشہ ڈرائیور وں نے من مانے کرائے وصول کرنا وطیرہ بنا رکھا ہے، اکثر رکشہ ڈرائیور بغیر ڈرائیونگ لائسنس رکشہ چلا رہے ہیں۔
تفصیلات کے مطابق مہنگائی کی چکی میں پسی عوام پر ایک اور بوجھ، رکشہ ڈرائیورز کی من مانیاں بھی عروج پر پہنچ گئی ہیں، ایک کلو میٹر کا کرایہ چالیس سے پچاس روپے تک وصول کیا جانے لگا، دینہ چوک سے ہڈالی تک ایک کلومیٹر کا کرایہ 40/50 روپے تک وصول کیا جا رہا ہے۔
شہر سے لیاقت ٹاؤن اور اقبال ٹاؤن جو کہ سفر ایک کلو میٹر بنتا ہے اسکا کرایہ 80سے 100 روپے وصول کیا جاتا ہے ، یہی نہیں اگر کوئی مریض یا اسپیشل آر ایچ سی تک جانا پڑ جائے تو تین سے چار سو تک وصول کیا جا رہا ہے، اسی طرح بوہڑیاں سے منارہ پلی تقریباً دو کلو میٹر کے سفر پر 100 روپے کرایہ اور منارہ پلی سے دینہ 120 سے 130 روپے کرایہ وصول کیا جا رہا ہے۔
اسی طرح دینہ شہر سے مختلف دیہاتوں میں جانے والے رکشہ خوب من مرضی کے کرائے وصول کرتے ہیں جو کہ عوام کے ساتھ بہت بڑی زیادتی ہے، اگر کوئی اعتراض کرے تو بات لڑائی جھگڑے اور ہاتھا پائی تک پہنچ جاتی ہے، ایسے کئی واقعات بھی سامنے آ چکے ہیں۔
اس حوالے سے عوامی حلقوں نے مطالبہ ہے کہ انتظامیہ اس بات کا نوٹس لے کر ایک معقول کرایہ نامہ جاری کریں جس سے بے چارے مسافر جو روزانہ ان رکشوں پر سفر کرتے ہیں ان کو سکھ کا چین نصیب ہو۔
