نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) نے ملک بھر میں جاری مون سون بارشوں کے نئے سلسلے کے پیش نظر 22 سے 24 جولائی تک شدید بارشوں، ندی نالوں میں طغیانی اور مختلف علاقوں میں سیلابی صورتحال کا الرٹ جاری کر دیا ہے۔
ادارے نے خبردار کیا ہے کہ آئندہ چند روز کے دوران ملک کے مختلف حصوں میں برساتی ریلوں اور دریاؤں میں پانی کی سطح خطرناک حد تک بلند ہونے کا خدشہ ہے۔
این ڈی ایم اے کے مطابق گلگت بلتستان، خیبرپختونخوا، آزاد جموں و کشمیر، پنجاب اور بلوچستان کے متعدد اضلاع شدید بارشوں سے متاثر ہو سکتے ہیں جہاں نشیبی علاقوں میں پانی جمع ہونے، ندی نالوں میں طغیانی اور پہاڑی علاقوں میں اچانک سیلاب آنے کا امکان ہے۔
ادارے کے مطابق گلگت بلتستان کے اضلاع غذر، ہنزہ، نگر، گلگت، دیامر، گانچھے اور شگر کے ندی نالوں میں پانی کے بہاؤ میں نمایاں اضافہ متوقع ہےجبکہ استور، کھرمنگ اور روندو کے دریاؤں میں بھی پانی کی سطح بلند ہو سکتی ہے۔
خیبرپختونخوا کے چترال، مالاکنڈ، شانگلہ، بٹگرام، کوہستان، مانسہرہ، ایبٹ آباد، ہری پور، چارسدہ، نوشہرہ، مردان، صوابی، پشاور، خیبر، کرم، اورکزئی، کوہاٹ، بنوں، ہنگو، شمالی و جنوبی وزیرستان، ٹانک اور ڈیرہ اسماعیل خان میں تیز بہاؤ، برساتی ریلوں اور مقامی سیلاب کا خدشہ ظاہر کیا گیا ہے۔
اسی طرح آزاد جموں و کشمیر کے باغ، حویلی، پونچھ، سدھنوتی، کوٹلی، بھمبر اور میرپور کے ندی نالوں اور دریاؤں میں بھی طغیانی کا امکان ظاہر کیا گیا ہے جبکہ پنجاب میں ڈی جی خان اور راجن پور کے پہاڑی نالوں میں پانی کے بہاؤ میں اضافے کی پیشگوئی کی گئی ہے۔
بلوچستان کے ژوب، شیرانی، موسیٰ خیل، لورالائی، قلعہ سیف اللہ، زیارت، دکی، بارکھان، ہرنائی، سبی، کچھی، خضدار، لہڑی اور جھل مگسی میں بھی شدید بارشوں کے باعث سیلابی صورتحال پیدا ہونے کا خدشہ ظاہر کیا گیا ہے۔
این ڈی ایم اے کے مطابق دریائے چناب میں مرالہ کے مقام پر اونچے درجے کے سیلاب جبکہ دریائے جہلم کے بالائی علاقوں اور منگلا کے مقام پر درمیانے درجے کے سیلاب کا امکان ہے۔ اس کے علاوہ جہلم، چناب اور راوی بیسن کے مختلف ندی نالوں میں بھی پانی کے بہاؤ میں نمایاں اضافہ متوقع ہے۔
ادارے نے خبردار کیا ہے کہ دریائے راوی میں بلوکی کے مقام پر آئندہ 24 سے 48 گھنٹوں کے دوران کم درجے کے سیلاب کا امکان ہے جبکہ دریائے سوات، پنجکوڑہ، چترال، کابل اور ان کے معاون دریاؤں میں بھی پانی کی سطح بلند ہونے کی توقع ہے۔
این ڈی ایم اے نے عوام کو ہدایت کی ہے کہ وہ موسلادھار بارشوں کے دوران دریاؤں، ندی نالوں اور پہاڑی علاقوں کا غیر ضروری سفر کرنے سے گریز کریں جبکہ مقامی انتظامیہ کو حساس مقامات کی مسلسل نگرانی، ہنگامی امدادی ٹیموں کی تیاری، مشینری کی دستیابی اور ممکنہ طور پر بند ہونے والی شاہراہوں کی فوری بحالی کے انتظامات یقینی بنانے کی ہدایت جاری کر دی گئی ہے۔
ادارے نے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ وہ موسم اور ممکنہ قدرتی آفات سے متعلق بروقت معلومات اور حفاظتی ہدایات کے لیے پاک این ڈی ایم اے ڈیزاسٹر الرٹ ایپ سے استفادہ کریں تاکہ کسی بھی ہنگامی صورتحال میں بروقت احتیاطی اقدامات کیے جا سکیں۔
