ٹیکس جمع نہ کروانے والوں کے لیے بُری خبر، سموں کی منسوخی سمیت ایف بی آر کے بڑے فیصلے

فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے 30 ستمبر تک ٹیکس گوشوارے جمع نہ کرانے والے ٹیکس دہندگان کے خلاف سخت کارروائی کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

ایف بی آر نے واضح کیا ہے کہ ٹیکس گوشوارے جمع نہ کرانے والے ٹیکس دہندگان کی موبائل فون سمز بند کردی جائیں گی، ان کے بجلی اور گیس کے کنکشن کاٹ دیے جائیں گے، جبکہ ان کے بیرون ملک سفر پر بھی پابندی عائد کردی جائے گی۔

ایف بی آر نے نان فائلرز کو بھی بذریعہ ای میل خبردار کیا ہے کہ انکم ٹیکس آرڈیننس 2001 کے تحت جن افراد کی آمدنی پر ٹیکس کا اطلاق ہوتا ہے، ان کے لیے بھی ضروری ہے کہ وہ اپنے ٹیکس گوشوارے جمع کرائیں، بصورت دیگر ان کے خلاف بھی مذکورہ اقدامات کیے جائیں گے۔

ایف بی آر نے کہا ہے کہ اس نے مالی ٹرانزیکشنز کا ریکارڈ مکمل کرلیا ہے اور اسے نادہندگان کی مالی سرگرمیوں کی مکمل تحقیقات کا اختیار حاصل ہے اور آڈٹ کے نتیجے میں نادہندگان پر بھاری جرمانے عائد کیے جاسکتے ہیں۔

واضح رہے کہ ایف بی آر نے تقریباً 13 ہزار ارب روپے سالانہ ٹیکس ہدف پورا کرنے کے لیے یکم اکتوبر سے نان فائلرز کے خلاف سخت کریک ڈاؤن کا فیصلہ کیا ہے، جس کے لیے لاکھوں نان فائلرز کو حتمی ٹیکس نوٹس بھی جاری کیے جائیں گے۔

ایف بی آر نے فیصلہ کیا ہے کہ مالی سال 2024 کے لیے انکم ٹیکس گوشوارے 30 ستمبر تک جمع نہ کرانے والوں سے دوگنا ودہولڈنگ ٹیکس وصول کیا جائے گا، مقررہ ڈیڈ لائن گزرنے کے بعد ٹیکس دہندگان کا وسیع پیمانے پر آڈٹ کرانے کا فیصلہ بھی کرلیا گیا ہے۔

یہ بھی پڑھنا مت بھولیں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button