جہلم میں محرم الحرام سے قبل لٹکتی تاریں شہریوں کے لیے خطرہ بن گئیں

جہلم: محرم الحرام کی آمد کے پیش نظر شہر اور گردونواح میں مختلف سرکاری و نجی اداروں کی جانب سے بچھائی گئی بجلی، ٹیلیفون، انٹرنیٹ اور کیبل نیٹ ورک کی لٹکتی تاریں شہریوں اور موٹر سائیکل سواروں کے لیے خطرے کی علامت بن گئی ہیں۔
تفصیلات کے مطابق جہلم شہر کے مختلف علاقوں، بازاروں، گلی محلوں اور مرکزی شاہراہوں پر بجلی، ٹیلیفون، انٹرنیٹ اور کیبل نیٹ ورک کی اضافی اور لاوارث تاریں جگہ جگہ آویزاں نظر آتی ہیں۔ کئی مقامات پر یہ تاریں انتہائی نیچی سطح پر لٹک رہی ہیں جس سے شہریوں کی آمد و رفت متاثر ہو رہی ہے۔
متعدد مقامات پر تاریں ٹوٹ کر یا نیچی ہو کر سڑکوں اور گلی محلوں میں لٹک رہی ہیں، جس کے باعث کسی بھی وقت کسی بڑے حادثے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔
شہریوں کا کہنا ہے کہ محرم الحرام کے دوران مجالس اور جلوسوں میں بڑی تعداد میں شہری شریک ہوتے ہیں، ایسے میں سڑکوں اور گلیوں میں موجود لٹکتی تاریں نہ صرف جلوسوں کی گزرگاہوں میں رکاوٹ بن سکتی ہیں بلکہ کسی بھی وقت انسانی جانوں کے لیے خطرہ بھی ثابت ہو سکتی ہیں۔
موٹر سائیکل سواروں اور مقامی رہائشیوں نے بھی خدشہ ظاہر کیا ہے کہ سڑکوں پر موجود نیچی تاریں حادثات کا سبب بن سکتی ہیں، خصوصاً رات کے اوقات میں یہ صورتحال مزید خطرناک ہو جاتی ہے۔
عوامی اور سماجی حلقوں نے ڈپٹی کمشنر جہلم، واپڈا، پی ٹی سی ایل، کیبل آپریٹرز، انٹرنیٹ سروس فراہم کرنے والی کمپنیوں اور دیگر متعلقہ اداروں کے ذمہ داران سے فوری نوٹس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔
شہریوں کا کہنا ہے کہ تمام خطرناک، اضافی اور لاوارث تاروں کو فوری طور پر ہٹایا جائے جبکہ ضروری تاروں کو محفوظ اور مناسب اونچائی پر منتقل کیا جائے تاکہ محرم الحرام کے دوران شہریوں اور موٹر سائیکل سواروں کو کسی قسم کی دشواری یا حادثے کا سامنا نہ کرنا پڑے۔
شہریوں نے امید ظاہر کی ہے کہ ضلعی انتظامیہ اور متعلقہ محکمے بروقت اقدامات کرتے ہوئے اس مسئلے کا مستقل حل نکالیں گے تاکہ کسی بھی ناخوشگوار واقعے سے بچا جا سکے اور محرم الحرام کے انتظامات محفوظ اور منظم انداز میں مکمل ہو سکیں۔



