تجاوزات مافیا کا دوبارہ راج، سڑکیں تنگ، شہری پریشان، میونسپل کمیٹی خاموش تماشائی

جہلم شہر میں اندرون بازاروں، سڑکوں اور مین جی ٹی روڈ کے دونوں اطراف سروس روڈز پر تجاوزات کے خلاف کی گئی کارروائیاں محض عارضی ثابت ہوئیں۔ تقریباً دو ماہ کی افراتفری اور رسمی کارروائیوں کے بعد تجاوزات مافیا نے ایک بار پھر پوری طاقت کے ساتھ شہر پر کنٹرول حاصل کر لیا ہے۔

مین جی ٹی روڈ کے دونوں اطراف، کاروباری افراد نے دیدہ دلیری سے کئی کئی فٹ تک اسٹالز، پھڑیاں لگا رکھی ہیں جبکہ ہوٹلز مالکان نے سڑکوں پر کرسیاں اور میزیں سجا کر گزرگاہوں کو تنگ کر دیا ہے۔ یہی حال اندرون شہر کے مین بازار، نیا بازار، اور دیگر ملحقہ مارکیٹوں و چوک چوراہوں کا ہے جہاں پیدل چلنے والوں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔

علاوہ ازیں، جادہ چوک، روہتاس روڈ چوک اور سروس روڈز پر بھی رکشوں، ریڑھیوں اور غیر قانونی پھڑیوں کی بھرمار دوبارہ قائم ہو چکی ہے۔ تجاوزات کے باعث ٹریفک کا نظام بری طرح متاثر ہو رہا ہے اور حادثات کا خدشہ بھی بڑھ چکا ہے۔

شہری حلقوں کا کہنا ہے کہ میونسپل کمیٹی کی انتظامیہ کی تمام کارکردگی فوٹو سیشن اور سوشل میڈیا کی حد تک محدود ہو کر رہ گئی ہے۔ حقیقی معنوں میں کوئی موثر کارروائی نظر نہیں آتی۔

عوامی حلقوں نے وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف، چیف سیکرٹری پنجاب، سیکرٹری بلدیات سمیت دیگر اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ فوری نوٹس لیں اور تجاوزات قائم کرنے والے مافیا کے خلاف سخت فوجداری کارروائیاں عمل میں لائیں، تاکہ شہریوں کو بنیادی سہولیات اور آزادی سے گزرنے کا حق مل سکے۔

Exit mobile version