جہلم: تین کم سن بچوں کو نہر میں پھینکنے والا باپ مبینہ پولیس مقابلے میں مارا گیا

دینہ/ جہلم: تین کم سن بچوں کو نہر اپر جہلم میں ڈبو کر قتل کرنے والا باپ مبینہ پولیس مقابلے میں مارا گیا۔

تفصیلات کے مطابق تھانہ منگلا کینٹ پولیس کی زیرِ حراست تین کمسن بچوں کو مبینہ طور پر نہر اپر جہلم میں ڈبو کر قتل کرنے والا ملزم ذیشان فاروق مبینہ پولیس مقابلے کے دوران اپنے ہی ساتھیوں کی فائرنگ سے ہلاک ہو گیا۔

پولیس کے مطابق جہلم کی تحصیل دینہ کے نواحی علاقہ قاضی چک کا رہائشی ملزم ذیشان فاروق کو مقدمہ نمبر 307/26 بجرم 363، 302، 201 ت پ میں تفتیش کے سلسلے میں پولیس لے جایا جا رہی تھی کہ اشیانہ ہاؤسنگ اسکیم جی ٹی روڈ دینہ کے قریب نامعلوم مسلح افراد نے پولیس پارٹی پر فائرنگ کر دی۔

پولیس کے مطابق فائرنگ کرنے والے ملزمان کا مقصد زیرِ حراست ملزم ذیشان فاروق کو پولیس حراست سے فرار کروانا تھا۔ پولیس پارٹی نے جوابی کارروائی کی، تاہم فائرنگ کے دوران ایک گولی پولیس کانسٹیبل کی بلٹ پروف جیکٹ پر لگی جبکہ دوسری گولی پولیس گاڑی کو لگی۔

پولیس کے مطابق فائرنگ کے دوران زیرِ حراست ملزم ذیشان فاروق اپنے ہی ساتھیوں کی فائرنگ سے شدید زخمی ہو گیا، جسے فوری طور پر طبی امداد کے لیے رورل ہیلتھ سنٹر دینہ منتقل کیا گیا، تاہم وہ زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے جاں بحق ہو گیا۔

پولیس کا کہنا ہے کہ ملزم ذیشان فاروق نے چند روز قبل گھریلو ناچاقی کے باعث اپنے تین کمسن بچوں کو نہر اپر جہلم میں ڈبو کر مبینہ طور پر قتل کر دیا تھا، جس کے بعد تھانہ منگلا کینٹ پولیس نے اسے گرفتار کیا تھا اور واقعے کی تفتیش جاری تھی۔

پولیس کے مطابق واقعے کی اطلاع ملتے ہی مزید پولیس نفری موقع پر پہنچ گئی اور علاقے کو گھیرے میں لے کر فرار ہونے والے ملزمان کی تلاش شروع کر دی گئی۔ پولیس حکام نے ملزمان کے ساتھیوں کی گرفتاری کے لیے مختلف ٹیمیں تشکیل دے دی ہیں، جبکہ علاقے میں سرچ آپریشن جاری ہے۔

پولیس کا کہنا ہے کہ فرار ہونے والے ملزمان کی گرفتاری کے لیے تمام ممکنہ وسائل بروئے کار لائے جا رہے ہیں اور واقعے سے متعلق مزید قانونی کارروائی اور تفتیش جاری ہے۔

Exit mobile version