جہلم میں ایل پی جی سلنڈر کی قیمتیں بے قابو، سرکاری نرخ نظرانداز، شہری اور ڈسٹری بیوٹرز دونوں پریشان

جہلم: ضلع جہلم میں ایل پی جی (LPG) گیس سلنڈرز کی قیمتوں میں مسلسل اضافے نے شہریوں، خصوصاً کم آمدن والے طبقے کے لیے شدید مشکلات پیدا کر دی ہیں۔

شہریوں کے مطابق ایل پی جی سلنڈر کا سرکاری مقررہ نرخ 2,850 روپے ہے، تاہم ضلع بھر میں بیشتر مقامات پر سلنڈر اس سے کہیں زیادہ قیمت پر فروخت کیے جا رہے ہیں۔ ڈسٹری بیوٹرز کا کہنا ہے کہ انہیں گیس پلانٹس سے ہی ایک سلنڈر 4,200 روپے یا اس سے زائد قیمت پر ملتا ہے، جس کے باعث وہ سرکاری نرخ پر صارفین کو سلنڈر فراہم کرنے سے قاصر ہیں۔

نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر ایک مقامی ڈسٹری بیوٹر نے بتایا کہ گیس پلانٹس حکومتی ہدایات پر عمل نہیں کر رہے اور من مانی قیمتیں وصول کرتے ہیں۔ ان کے بقول، منت سماجت کے باوجود سلنڈر مہنگے داموں ملتے ہیں، ایسے میں صارفین کو سرکاری نرخ پر فراہمی ممکن نہیں رہتی۔

عوام کا کہنا ہے کہ سرکاری نرخ نامے کے باوجود مارکیٹ میں گیس سلنڈرز من مانی قیمتوں پر فروخت کیے جا رہے ہیں، جبکہ متعلقہ اداروں کی مؤثر کارروائی نہ ہونے کے باعث گراں فروشی میں مسلسل اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔

شہریوں کا کہنا ہے کہ ایل پی جی کی قیمتوں میں بے تحاشا اضافے نے گھریلو بجٹ بری طرح متاثر کر دیا ہے، جبکہ کم آمدن والے خاندانوں کے لیے سلنڈر خریدنا انتہائی دشوار ہو گیا ہے۔ مختلف علاقوں کے مکینوں نے اس صورتحال پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ پنجاب کے دیگر اضلاع کی طرح جہلم میں بھی گراں فروشی کے خلاف فوری اور مؤثر کارروائی کی جائے۔

متعلقہ حلقوں کے مطابق صوبائی حکومت نے ایل پی جی کی قیمتوں کو کنٹرول کرنے کے لیے واضح ہدایات جاری کی ہیں، تاہم مقامی سطح پر ان پر مؤثر عملدرآمد دکھائی نہیں دیتا۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ ضلعی انتظامیہ اور متعلقہ محکموں کی جانب سے اب تک ایسی کوئی نمایاں کارروائی سامنے نہیں آئی جس سے عوام کو حقیقی ریلیف مل سکا ہو۔

شہریوں نے ضلعی انتظامیہ، متعلقہ ریگولیٹری اداروں اور حکومت پنجاب سے مطالبہ کیا ہے کہ گیس پلانٹس اور گراں فروشی میں ملوث عناصر کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے، سرکاری نرخ نامے پر عملدرآمد یقینی بنایا جائے اور ایل پی جی سلنڈرز عوام کو مقررہ قیمت پر دستیاب بنانے کے لیے فوری عملی اقدامات کیے جائیں۔

Exit mobile version